آگ آنگن میں خود لگا دی ہے
آگ آنگن میں خود لگا دی ہے
جس نے انصاف کی ندا دی ہے
بھائی دو بٹ گئے زمینوں میں
گھر میں دیوار اک بنا دی ہے
تم ہی ابلیس کے سپاہی ہو
تم نے تقسیم کو ہوا دی ہے
اک صدا اس نے ان سنی کر دی
بارہا ہم نے کب صدا دی ہے
روشنی ہجر میں اذیت تھی
جب بھی شمع جلی بجھا دی ہے
جھوٹ کی آر پار لذت نے
سچ کی تاثیر ہی بھلا دی ہے
دوستو کشتیاں جلانی تھیں
تم نے تاریخ ہی جلا دی ہے
لوگ سب منتشر نہ ہو جائیں
آج پھر عشق نے صدا دی ہے
ہارتا کیوں خلیلؔ ماں نے جب
چوم کر کل جبیں دعا دی ہے