دل گستاخ کو لازم ہے جلایا ہوتا

دل گستاخ کو لازم ہے جلایا ہوتا
عشق معصوم تھا جھگڑے میں نہ لایا ہوتا


تیری تعظیم میں اٹھی ہیں جو آہیں فوراً
اک نظر دیکھ کے ان کو تو بٹھایا ہوتا


لوگ جو عشق پہ گھر بار لٹا کر آئے
وارث شعر و سخن ان کو بنایا ہوتا


میرے وجدان میں رہتے ہیں کسی یاد کے دکھ
خواب کچھ بھیج کے یادوں کو سلایا ہوتا


مجھ کو محروم وفا دیکھ کے نوحہ کہتے
عشق مغموم پہ ماتم ہی منایا ہوتا


ایک ابہام ہے گھومے گا مقدر پھر سے
کاٹ کے ہاتھ لکیروں کو گھمایا ہوتا


ان کو بیمار کے لہجے کی تھکن یاد نہیں
تجھ سا بے غرض مسیحا نہ خدایا ہوتا


یہ مری صفت خلیلؔ آج مجھے لے ڈوبی
سچ نے سولی پہ چڑھایا نہ چڑھایا ہوتا