بے رحم دل کی حماقتوں کے اسیر ہیں

بے رحم دل کی حماقتوں کے اسیر ہیں
تبھی سرنگوں ہیں ندامتوں کے اسیر ہیں


شب وصل عشق کی چاندنی کا غرور تھے
وہی لوگ ہجر کی وحشتوں کے اسیر ہیں


ہوئے سر بکف ہیں جو آندھیوں کی اڑان پر
یہ چراغ عشق کی حرمتوں کے اسیر ہیں


جنہیں اپنی قوت ضبط پہ کبھی ناز تھا
وہی اشک درد کی شدتوں کے اسیر ہیں


کوئی عشق تھا جو کسی کے جانے سے مر گیا
کوئی زخم ہجر کی عدتوں کے اسیر ہیں


جنہیں اے خدا تری آیتوں سے ہی بغض ہے
وہی بحر و بر کی نجاستوں کے اسیر ہیں


کہاں وہ زمیں کو سنا سکے ہیں ندائے دل
مرے لفظ عرش کی وسعتوں کے اسیر ہیں


جنہیں دان کر کے چلے گئے ہو عذاب جاں
وہ انا پرست سے عبرتوں کے اسیر ہیں


ہمی شعر لکھتے ہیں تیر و نیزہ کی نوک پر
ہمی سرپھرے ہیں بغاوتوں کے اسیر ہیں


کبھی تم نیا کوئی زخم دو کہ سنا سکوں
ابھی شعر غم کی سماعتوں کے اسیر ہیں


وہ خدا پرست خلیلؔ جو سر دار ہیں
ہم انہی کے قرب کی لذتوں کے اسیر ہیں