حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے

حالات کی چیخوں پہ کبھی کان دھریں گے
ہر خوف میں سہمی ہوئی آواز سنیں گے


یہ لازم و ملزوم نہیں ہوش میں آؤں
کب خمر تھی آنکھیں ہیں کئی روز لگیں گے


افلاک سے لوٹی ہے دعا آ کے ذرا دیکھ
ہر حرف کے چہرے پہ تجھے سوگ دکھیں گے


نا امن کی خواہش کو کبھی خوف سمجھنا
میداں میں ہمیں دیکھ ترے ہوش اڑیں گے


بانٹا ہے مجھے ہجر نے ٹکڑوں میں کہ میری
آنکھیں ہیں کہیں پر تو کہیں خواب ملیں گے


پہلو سے اٹھے درد نے آنکھوں میں جگہ لی
افسوس تجھے نیند یہاں کون سی جا دیں


دو چار قدم آنکھ کو آنکھوں سے ملا کر
اب خواب حقیقت کی اسیری کا کہیں گے


اے عشق ترے در پہ ملی مر کے بلندی
شہ رگ پہ تجھے زندہ و جاوید لکھیں گے


یہ جنگ عجب جنگ ہے لڑنا نہ کبھی بھی
اس عشق کے میداں میں جئیں گے نہ مریں گے


تم دل میں چھپاؤ نہ کہو آگ لگے گی
اشعار کے دامن میں کہاں درد چھپیں گے


ہم ضبط خلیلؔ اوڑھ کے زخموں پہ کئی بار
ہر آہ کے سینے پہ قدم رکھ کے ہنسیں گے