فصیل شہر پہ لکھی ہے داستاں میری
فصیل شہر پہ لکھی ہے داستاں میری
میں کیسے بات کروں قید ہے زباں میری
محبتوں کے بھی یہ سلسلے عجیب سے ہیں
جدا ہے مجھ سے مگر پھر بھی ہے وہ جاں میری
میں اپنے شہر میں رہ کر بھی اجنبی سا رہا
کہ کوئی سنتا نہیں بات بھی یہاں میری
جو جان لیتا تھا اندر کا حال آنکھوں سے
اسے سنائی نہیں دیتیں سسکیاں میری
خدایا تیرا کرم ہے کہ مجھ کو عزت دی
وگرنہ اتنی بھی اوقات تھی کہاں میری