کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد

کوئی تو چاہیے ہم کو سہارا تیرے بعد
اداس اداس رہا شہر سارا تیرے بعد


جو آسماں پہ ہمارے لیے چمکتا تھا
وہ مجھ سے روٹھ گیا ہے ستارہ تیرے بعد


لگا کے زخموں پہ مرہم تمہاری یادوں کا
کچھ ایسے دل کو مری جاں سنوارا تیرے بعد


تو ساتھ تھا تو میں سب جھیلتا تھا دنیا کو
کسی کے ناز کروں کیوں گوارہ تیرے بعد


ہزاروں لوگ مرے خیر خواہ تھے لیکن
کسی کو بھی نہیں میں نے پکارا تیرے بعد


خلیلؔ اپنے مقدر میں اب خوشی ہی نہیں
میں ہر کسی سے لڑا اور ہارا تیرے بعد