ہزاروں لوگ ہیں اپنی طرح کے
ہزاروں لوگ ہیں اپنی طرح کے
ستم جو جھیلتے ہیں مسکرا کے
کہاں تاریکیوں میں کھو گئے ہو
ہمارے ہاتھ پر شمع جلا کے
ذرا بیٹھو ہمارا حال دیکھو
کدھر جاتے ہو تم یہ گل کھلا کے
ترے بارے میں یہ سوچا نہیں تھا
کہ تو بھی چھوڑ دے گا آزما کے
چمن میں تم خلیلؔ آئے نہیں ہو
مجھے سننے پڑے شکوے صبا کے