دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے

دکھوں سے اور غموں سے دوستی ہے
حقیقت میں یہی تو زندگی ہے


خوشی پل بھر مگر غم زندگی بھر
خوشی سے غم زیادہ قیمتی ہے


اگر روشن ہو دل سینے کے اندر
اندھیری رات بھی پھر چاندنی ہے


گلے میں ڈالتا ہے ہجر باہیں
اداسی میرے پاؤں چومتی ہے


بڑی مدت ہوئی ہم نے خلیلؔ اب
زمانے میں خوشی دیکھی نہیں ہے