اس کی زلفوں میں ابھی پھول لگانا تھا مجھے

اس کی زلفوں میں ابھی پھول لگانا تھا مجھے
اور رخسار پہ اک چاند بنانا تھا مجھے


اس نے اچھا کیا آغاز سفر میں چھوڑا
آخر اک روز اسے چھوڑ کے جانا تھا مجھے


دوستوں نے بھی اڑایا ہے محبت کا مذاق
دوستوں سے بھی محبت کو چھپانا تھا مجھے


اپنی بربادی کا شکوہ بھی کروں تو کس سے
آخر اس دل نے بھی یہ دن تو دکھانا تھا مجھے


اس نے جو دل سے نکالا ہے کدھر جاؤں خلیلؔ
ساری دنیا میں یہی ایک ٹھکانا تھا مجھے