اندھیری شب ہے مری جاں ذرا سا سوچ تو لے

اندھیری شب ہے مری جاں ذرا سا سوچ تو لے
بجھا چراغ کبھی کام آ ہی جاتا ہے


کسی کا نام پکاریں کسی کو یاد کریں
ہمارے لب پہ ترا نام آ ہی جاتا ہے


دواۓ درد جگر جب بھی مانگتا ہوں میں
تو میرے سامنے اک جام آ ہی جاتا ہے


خطائیں شہر کا حاکم کرے یا اور کوئی
مگر غریب پہ الزام آ ہی جاتا ہے


چلے تھے ہم کہ ابھی ابتدائے الفت ہے
کسے خبر تھی کہ انجام آ ہی جاتا ہے


جو مجھ پہ پہرے لگاتا ہے اس کو علم نہیں
وہ شہر دل میں سر عام آ ہی جاتا ہے


تجھے بھلانے کی کوشش تو کر رہا ہوں خلیلؔ
خیال تیرا سر شام آ ہی جاتا ہے