Hairat Farrukhabadi

حیرت فرخ آبادی

حیرت فرخ آبادی کی غزل

    ہر بشر کا مقام لکھا ہے

    ہر بشر کا مقام لکھا ہے سب کا با ظرف کام لکھا ہے میرے لکھے پہ حق کسی کا نہیں جو لکھا تیرے نام لکھا ہے ہم سے لکھوا رہا ہے کس کا جنوں کون ہے کس کا کام لکھا ہے چیر کر دیکھ لے مرا سینہ اس میں تیرا ہی نام لکھا ہے سوچ کر جب کبھی لکھا میں نے جو بھی لکھا ہے خام لکھا ہے لکھنے والوں کا کیا ...

    مزید پڑھیے

    تری بے نیازیوں کا مجھے کچھ گلہ نہیں ہے

    تری بے نیازیوں کا مجھے کچھ گلہ نہیں ہے مرا دل ہے خوب واقف ترا دل برا نہیں ہے غم دوست در حقیقت ترا رہنمائے منزل وہی کم نگاہ نکلا جسے حوصلہ نہیں ہے مرے عشق کا مقدر مری زندگی کا حاصل غم یار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے ترا درد زندگی ہے ترا غم مرا مقدر مجھے اور چاہیے کیا مرے گھر میں ...

    مزید پڑھیے

    ان دنوں جی دکھا سا رہتا ہے

    ان دنوں جی دکھا سا رہتا ہے ہر گھڑی دل بجھا سا رہتا ہے کتنے جھیلوں عذاب رات اور دن ذہن بھی اب تھکا سا رہتا ہے ذہن زخمی ہے روح بھی زخمی دل میں میلہ لگا سا رہتا ہے کوئی موسم ہو بدلیوں کا راج اب تو سورج چھپا سا رہتا ہے کس طرف جائے یہ سڑک جانے بس یہ کھٹکا لگا سا رہتا ہے چار سو نفرتوں کی ...

    مزید پڑھیے

    اب ادا ہم سے نماز زندگی ہوتی نہیں

    اب ادا ہم سے نماز زندگی ہوتی نہیں دل جلانے سے بھی اب تو روشنی ہوتی نہیں زندگانی اس قدر بے کیف ہے کچھ ان دنوں ان کے آ جانے سے بھی اب تو خوشی ہوتی نہیں تیز ہو جاتی تھی دھڑکن آتے ہی تیرا خیال نام تیرا سن کے بھی اب سنسنی ہوتی نہیں حسن پہ مرتی ہے دنیا جس پہ آتا ہے زوال ہم سے ایسی چند ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی گرتا ہوں تھام لیتا ہے

    جب بھی گرتا ہوں تھام لیتا ہے یوں بھی وہ انتقام لیتا ہے کیا شکایت ادا ہے یہ اس کی بے نیازی سے کام لیتا ہے ایسا کیا کچھ پلا دیا تو نے جو بھی ہے تیرا نام لیتا ہے چھڑ ہی جاتی ہے داستاں میری جب کوئی تیرا نام لیتا ہے سب کی نظریں بچا کے اے حیرتؔ کوئی تیرا سلام لیتا ہے

    مزید پڑھیے

    وقت شب گم ہوا سایہ تو مجھے یاد آیا

    وقت شب گم ہوا سایہ تو مجھے یاد آیا ہو گیا اپنا پرایا تو مجھے یاد آیا میری بربادی میں تھا ہاتھ کوئی پوشیدہ اس نے جب ہاتھ ملایا تو مجھے یاد آیا تلخیٔ دوراں نہیں بدلے گی یہ تلخیٔ مے جام جب سامنے آیا تو مجھے یاد آیا ریت ہی ریت نظر آتی تھی تا حد نظر اب کے سیلاب جو آیا تو مجھے یاد ...

    مزید پڑھیے

    دل رو رہا ہے آنکھ میں لیکن نمی نہیں

    دل رو رہا ہے آنکھ میں لیکن نمی نہیں جینے کو جی رہا ہوں مگر زندگی نہیں اس کو نہ پا سکے جسے چاہا تمام عمر یوں تو مجھے جہان میں کوئی کمی نہیں تھا پاس آبروئے محبت تمام عمر اک بوند بھی پلک سے ہماری گری نہیں رحمت کا کیا جواب ہے تیری وگرنہ یاں وہ کون سی خطا ہے جو ہم سے ہوئی نہیں حیرتؔ ...

    مزید پڑھیے

    درد بن کے کبھی غم بن کے ستاتا ہی رہا

    درد بن کے کبھی غم بن کے ستاتا ہی رہا اپنے ہونے کا وہ احساس دلاتا ہی رہا وہ خریدار تو مدت ہوئی آتا ہی رہا میں دکاں ہیروں کی پلکوں پہ سجاتا ہی رہا ہائے وہ اس کے جدا ہونے کا منظر یا رب وہ چلا بھی گیا میں ہاتھ ہلاتا ہی رہا گہری تاریکی تھی سناٹا تھا پر اک جگنو روشنی کا مجھے احساس ...

    مزید پڑھیے

    لوگ مدت میں بنا پاتے ہیں گھر

    لوگ مدت میں بنا پاتے ہیں گھر زلزلے آتے ہیں گر جاتے ہیں گھر وہ مکانوں کے مکیں ہیں ٹھیک ہے خوش نصیبوں کو ہی مل پاتے ہیں گھر مذہبوں کی آڑ لے کر نفرتیں پھیل جاتی ہیں تو بٹ جاتے ہیں گھر جو حقیقت میں ہو گھر وہ گھر کہاں ہم کو جانا ہی ہے سو جاتے ہیں گھر ہر جگہ رکنا مناسب ہے کہاں یوں تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2