Hairat Farrukhabadi

حیرت فرخ آبادی

حیرت فرخ آبادی کی غزل

    در امید وا نہیں ہوتا

    در امید وا نہیں ہوتا اب وہ جلوہ نما نہیں ہوتا کتنی پر لطف زیست ہوتی ہے جب کوئی آسرا نہیں ہوتا آنکھ سے گر گیا ہو جو آنسو وہ کسی کام کا نہیں ہوتا خود گریباں میں جھانک کر دیکھا کوئی انساں برا نہیں ہوتا تو سبھی کا ہے اک ہمارے سوا ہم سے بس یہ گلہ نہیں ہوتا وہی ہوتا نہیں جو ہم ...

    مزید پڑھیے

    زیست کے بھید کھولتا ہے کون

    زیست کے بھید کھولتا ہے کون میرے اندر یہ بولتا ہے کون میرے شعروں میں میرے لفظوں کو موتیوں سا یہ رولتا ہے کون میرے شعروں میں میری غزلوں میں اپنے اسرار کھولتا ہے کون تلخ لمحوں میں لب سے شیرینی میرے کانوں میں گھولتا ہے کون چھین لی کس نے میری تنہائی میری راتوں میں ڈولتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    دل دکھانا تمہاری فطرت ہے

    دل دکھانا تمہاری فطرت ہے چوٹ کھانا ہماری عادت ہے مجھ کو یوں ہی خراب ہونا تھا بے سبب تم کو کیوں ندامت ہے جھانک کر ایک بار آنکھوں میں خود ہی پڑھ لو جو دل کی حالت ہے راہ الفت میں جان دے دینا اس سے بڑھ کر کوئی شہادت ہے تیری فرقت ہو یا تری قربت ایک دوزخ ہے ایک جنت ہے تم نے دیکھا ہے ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں سے دل کے ان داغوں کو دھو لیتا ہوں میں

    آنسوؤں سے دل کے ان داغوں کو دھو لیتا ہوں میں درد جب حد سے گزر جاتا ہے رو لیتا ہوں میں جب ستاتی ہے کسی کی یاد تنہائی کے وقت آنسوؤں کے ہار پلکوں سے پرو لیتا ہوں میں شدت احساس غم سے جب بھی گھبراتا ہے دل آنسوؤں میں اپنی آہوں کو ڈبو لیتا ہوں میں درد الفت درد دنیا اور یہ ننھا سا دل ایک ...

    مزید پڑھیے

    یہ کہانی یہ فسانہ بس اسی شب بھر کا ہے

    یہ کہانی یہ فسانہ بس اسی شب بھر کا ہے زندگی شیشے کی ہے اور آدمی پتھر کا ہے دوستو اس دور کی سب سے بڑی خوبی ہے یہ آدمی پتھر کا دل پتھر گھر پتھر کا ہے ہے وہ کتنا خوب صورت ہر ادا بھی دل نشیں اس کی باتیں میٹھی میٹھی پر اثر نشتر کا ہے ایک مدت ہو گئی آئی نہ منزل آج تک یہ کرشمہ بھی مرے ...

    مزید پڑھیے

    جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے

    جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے ہمیں بھی جلوہ دکھاؤ تو کوئی بات بنے ہمارے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے ہمارے ہوش اڑاؤ تو کوئی بات بنے سنا ہے طور پہ موسیٰ گرے تھے سجدے میں ہمیں بھی سجدہ کراؤ تو کوئی بات بنے غموں کی آگ ہے دل میں جہان جلتا ہے ذرا یہ آگ بجھاؤ تو کوئی بات بنے عجیب ...

    مزید پڑھیے

    کسی کے عہد کا دل رازدار آج بھی ہے

    کسی کے عہد کا دل رازدار آج بھی ہے نہ آئیں گے وہ مگر انتظار آج بھی ہے ہوئی ہیں مدتیں بچھڑے ہوئے مگر ہم دم ترے لیے مرا دل بے قرار آج بھی ہے پلائی تھی جو کبھی تو نے مست آنکھوں سے سرور اس کا اسی کا خمار آج بھی ہے جگر کے زخموں کو اشکوں سے ہم نے سینچا ہے چلے بھی آؤ کے فصل بہار آج بھی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2