Ghaus Khah makhah Hyderabadi

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی کی نظم

    پابند نہیں ہیں

    وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں بوڑھے ہیں نا جذبات کے پابند نہیں ہیں خوابوں میں نکل جاتے ہیں ارمان ہمارے ہم دن میں ملاقات کے پابند نہیں ہیں بے وجہ بھی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں اکثر سیلاب جو برسات کے پابند نہیں ہیں حالات کی گردش رہی پابند ہماری ہم گردش حالات کے پابند نہیں ...

    مزید پڑھیے

    خاموشی

    اگرچہ یہ جہان رنگ و بو ہے مگر ہر سو فساد میں و تو ہے میں چپ رہ کر بہت کچھ کہہ گیا ہوں یہ خاموشی ہی میری گفتگو ہے طنز و مزاح کا یوں بھی کرشمہ دکھا دیا ہنس کر رلا دیا کبھی رو کر ہنسا دیا خاموش رہ کے میں نے کئی بار ؔخواہ مخواہ لوگوں کو گفتگو کا سلیقہ سکھا دیا جب بھی یاد کسی کی دل میں ...

    مزید پڑھیے

    دی گئی ہے

    ہمیں جو زندگی دی گئی ہے برائے مہربانی دی گئی ہے سماعت چھین کر اہل خرد کی ہمیں جادو بیانی دی گئی ہے مجھے لکھنے کو اک اچھا سا عنواں مری اپنی کہانی دی گئی ہے جو راہ حق میں جاں دیتے ہیں ان کو حیات جاودانی دی گئی ہے مگر جو موت سے ڈرتے ہیں ان کو وفات ناگہانی دی گئی ہے ضعیفی میں ...

    مزید پڑھیے

    روٹیاں

    کم یاب ہو گئیں جو ذہانت کی روٹیاں کھانے لگے ہیں لوگ جہالت کی روٹیاں محنت سے جن کو عار ہے وہ بھیک مانگ کر دن رات توڑتے ہیں سخاوت کی روٹیاں کھا تو رہے ہو دیکھنا پچھتاؤ گے اک دن ہوتی نہیں ہیں ہضم عداوت کی روٹیاں لیڈر ہمارے باہمی نفرت کی آگ پر جب سینک چکے گندی سیاست کی روٹیاں اب ...

    مزید پڑھیے

    لیڈر سے خطاب

    اگر نہیں ہے کوئی کام کام پیدا کر کہیں سے ڈھونڈھ کے مینا و جام پیدا کر نہ پھنسنا گردش لیل و نہار میں زنہار تو روز ایک نئی صبح و شام پیدا کر تو ہر طرح کے سبھی کام لے غلاموں سے غلام گر نہیں ملتے غلام پیدا کر دلوں میں تیر کی مانند جو اتر جائے تلاش کر کے کچھ ایسا کلام پیدا کر سنا کے ...

    مزید پڑھیے

    میری محبوب

    میری محبوب تجھے میری محبت کی قسم اپنی ہلکی سی شرافت کا اشارہ دے دے جیب سے مارا ہوا نوٹ کرارا دے دے اے مری جاں مرے الجھے ہوئے مقطع کی غزل جسے دیکھا نہیں اس خواب کی الٹی تعبیر تو مہرباں ہو تو کھل جائے مرے دل کا کنول اپنی بے لوث محبت کی دکھا دے تاثیر آ کے دھوبی ہے کھڑا اس کا ادھارا ...

    مزید پڑھیے

    سورج

    کبھی جب خود سے گھبراتا ہے سورج ٹہل کر جی کو بہلاتا ہے سورج تپش جب حد سے بڑھتی ہے بدن کی سمندر میں اتر جاتا ہے سورج مٹانے بھوک اپنی منہ اندھیرے اندھیروں کو نگل جاتا ہے سورج سویرے بدلیاں جب چھیڑتی ہیں طلوع ہونے سے شرماتا ہے سورج سر غرب بجھا دیتا ہے خود کو صبح ہوتے ہی جل جاتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    سیاسی مصلحت

    ہے یہی دستور دنیا اور یہی دیکھا گیا پھول سے خوشبو نکلتے ہی اسے پھینکا گیا باغ ہندوستان جن جن کے خون سے سینچا گیا دار ناقدری پہ بالآخر انہیں کھینچا گیا زندگی میں مل گئے کتنوں کو سرکاری خطاب مفت میں ان کو خریدا مفت میں بیچا گیا مرنے والوں کو بھی ہر اعزاز پارلیمنٹ میں اہتماماً ...

    مزید پڑھیے

    دیکھتے جاؤ

    کسی کی ڈھل گئی کیسی جوانی دیکھتے جاؤ جو تھیں بیگم وہ ہیں بچوں کی نانی دیکھتے جاؤ ٹنگی ہے جو مرے ہینگر نما کندھوں پہ میلی سی مری شادی کی ہے یہ شیروانی دیکھتے جاؤ دکھا کے دسویں نو مولود کو مجھ سے وہ یہ بولیں محبت کی ہے یہ تازہ نشانی دیکھتے جاؤ کیا بیگم نے نافذ گھر میں دستور ...

    مزید پڑھیے

    اجنبی چمن میں

    نہ بنا سکا نشیمن کسی اجنبی چمن میں مرا گھر جلا ہے جب سے مرے اپنے ہی وطن میں مرے ذوق خوش لباسی کو فرشتے بھی تو دیکھیں میں مروں تو دفن کرنا ٹیری لین کے کفن میں یہ ہے بے ثبات دنیا اسی دم کے مرغ کی سی جو صبح پکا کچن میں مگر آیا نہ ٹفن میں مزہ گل کے توڑنے کا تو ملا بہت اے گلچیں ملی لذت ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3