پابند نہیں ہیں

وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں
بوڑھے ہیں نا جذبات کے پابند نہیں ہیں


خوابوں میں نکل جاتے ہیں ارمان ہمارے
ہم دن میں ملاقات کے پابند نہیں ہیں


بے وجہ بھی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں اکثر
سیلاب جو برسات کے پابند نہیں ہیں


حالات کی گردش رہی پابند ہماری
ہم گردش حالات کے پابند نہیں ہیں


جب وقت کے پابند نہیں آپ تو ہم بھی
پابندئ اوقات کے پابند نہیں ہیں


ہم رند خرابات ہیں جو چاہے پئیں گے
ساقی کی ہدایات کے پابند نہیں ہیں


زنجیر لئے پاؤں میں پھرتے ہیں سر راہ
دیوانے حوالات کے پابند نہیں ہیں


حاکم نے کہا ہے کہ وہی حکم کو ٹالیں
جو مرگ مفاجات کے پابند نہیں ہیں


مفہوم شب وصل کا سمجھایا تو بولے
ہم ایسی کسی رات کے پابند نہیں ہیں


یہ دور ترقی کا ہے ہم شرم و حیا کی
فرسودہ روایات کے پابند نہیں ہیں


ہم ؔخواہ مخواہ پابند ہیں آتے ہوئے پل کے
گزرے ہوئے لمحات کے پابند نہیں ہیں