Fakhruddin Khan Mahir

فخر الدین خاں ماہر

فخر الدین خاں ماہر کی غزل

    وہ بے نوا رہ و رسم قلندری جانے

    وہ بے نوا رہ و رسم قلندری جانے جو خاک تن پہ لباس تونگری جانے رقیب سے تری پرخاش دیکھ کر اے شوخ وہی ہو خوش جو نہ یہ جنگ زرگری جانے ادا و ناز و تبسم نگاہ گوشۂ چشم سو اس کے کون یہ انداز دلبری جانے جہاں کے قتل سے کیا ہو اسے خطر ہیہات جو شوخ کچھ نہ مآل ستم گری جانے دماغ بحث نہیں خارجی ...

    مزید پڑھیے

    بات کیجے غیر سے اور ہم سے منہ کو موڑیئے

    بات کیجے غیر سے اور ہم سے منہ کو موڑیئے ٹک خدا سے ڈریے ان وضعوں کو اپنی چھوڑیئے منہ نہ موڑے گا یہ عاصی گر یوں ہی منظور ہے لیجئے سنگ جفا اور شیشۂ دل توڑیئے توڑنا دل کا تمہارے آگے گو آسان ہے پر تمہیں تب جانیں جب ٹوٹے بھی دل کو جوڑئیے یار بے پروا و جانب دار اس کی خلق سب ہائے کس کے ...

    مزید پڑھیے

    میں تو مزاحم نہیں غیر کے ہاں جائیے

    میں تو مزاحم نہیں غیر کے ہاں جائیے گاہ قدم رنجہ آپ یاں بھی تو فرمائیے تم سے تو غیر از رضا چارہ نہیں مجھ کو لیک کعبۂ دل کو مرے سوچ کے ٹک ڈھک جائیے قصد کہیں اور کا ہم سے یہ کہہ کر چلے جاؤں ہوں گھر آئیو یوں تو نہ بہکائیے اور جگہ کب ملے دل کی خبر ہاں مگر تیری گلی میں سراغ ڈھونڈئیے تو ...

    مزید پڑھیے

    جدھر منہ اپنے کو وہ عیسیٔ زماں پھیرے

    جدھر منہ اپنے کو وہ عیسیٔ زماں پھیرے تو اک نگاہ سے مردوں کے تن میں جاں پھیرے وہ تو ہے کافر رہزن کہ اک اشارے میں جو سمت کعبے کے جاتا ہو کارواں پھیرے تری جفاؤں سے یوں دل کے پھیرنے کے لیے کہے ہزار کوئی تجھ سے پر کہاں پھیرے کر اے عزیز ہر اک نیک و بد کی دل میں راہ نہ کر وہ کام کہ منہ ...

    مزید پڑھیے

    ہوئے اب ہم سے تم گر دشمن جانی تو بہتر ہے

    ہوئے اب ہم سے تم گر دشمن جانی تو بہتر ہے میاں غیروں سے مل کر دل میں یوں ٹھانی تو بہتر ہے نہیں ہے خوب صحبت ہر کسی کم ظرف سے لیکن نہیں گر مانتے از راہ نادانی تو بہتر ہے بجز خوش طبعی و چشمک نہ دیکھا حرف میں تم سے کرو موقوف اگر یہ وضع رندانی تو بہتر ہے ز روئے خیر خواہی تم سے میں کہتا ...

    مزید پڑھیے

    جب یار دیکھنے کو گلزار گھر سے نکلا

    جب یار دیکھنے کو گلزار گھر سے نکلا عالم تب اس کے بہر دیدار گھر سے نکلا کرنے کو قتل عاشق وہ تند خو کج ابرو کج رکھ کے سر پہ اپنی دستار گھر سے نکلا دیتا تھا وہ کسی کو گالی کسی کو جھڑکی جس دم نشے میں ہو کر سرشار گھر سے نکلا چنگا بھلا جو آیا پاس اس پری کے ماہرؔ چلتے ہوئے وہ ہو کر بیمار ...

    مزید پڑھیے

    لیے میں قدم جو اس کے تو کیا عتاب الٹا

    لیے میں قدم جو اس کے تو کیا عتاب الٹا کہی بات میں نے سیدھی تو دیا جواب الٹا وہ جو غیر ہیں سو ان سے تمہیں بے تکلفی ہے ہمیں دیکھ کر کے اب تم کرو ہو حجاب الٹا یہ وہ دور ہے عزیزو ہے نجیب گردی اس میں چلی باد اب وہ جس سے ورق کتاب الٹا وہیں مہر ذرہ ہو کر لگا آنکھ کو جھپکنے لب بام ان نے رخ ...

    مزید پڑھیے

    گرچہ بنتا نہیں ڈھب سونے کا جاناں سے لپٹ

    گرچہ بنتا نہیں ڈھب سونے کا جاناں سے لپٹ ایک دن جاؤں گا پر اس کے میں داماں سے لپٹ اے فلک تجھ سے تمنا ہے کہ اس جاڑے میں سوئیے گرم ہو اس مہر درخشاں سے لپٹ باد مدت جو اسے سیر چمن میں دیکھا میں گیا دوڑ کے اس سرو خراماں سے لپٹ باغباں نے جو نہ دی رفعت گل گشت ہمیں بت سے ہو رہ گئے دیوار ...

    مزید پڑھیے