ہوئے اب ہم سے تم گر دشمن جانی تو بہتر ہے

ہوئے اب ہم سے تم گر دشمن جانی تو بہتر ہے
میاں غیروں سے مل کر دل میں یوں ٹھانی تو بہتر ہے


نہیں ہے خوب صحبت ہر کسی کم ظرف سے لیکن
نہیں گر مانتے از راہ نادانی تو بہتر ہے


بجز خوش طبعی و چشمک نہ دیکھا حرف میں تم سے
کرو موقوف اگر یہ وضع رندانی تو بہتر ہے


ز روئے خیر خواہی تم سے میں کہتا ہوں اے پیارے
نصیحت تم نے یہ میری اگر مانی تو بہتر ہے


جہاں سے اٹھ گیا سوداؔ سا شاعر حیف اے ماہرؔ
کرے گر ترک تو شعر غزل خوانی تو بہتر ہے