جب یار دیکھنے کو گلزار گھر سے نکلا

جب یار دیکھنے کو گلزار گھر سے نکلا
عالم تب اس کے بہر دیدار گھر سے نکلا


کرنے کو قتل عاشق وہ تند خو کج ابرو
کج رکھ کے سر پہ اپنی دستار گھر سے نکلا


دیتا تھا وہ کسی کو گالی کسی کو جھڑکی
جس دم نشے میں ہو کر سرشار گھر سے نکلا


چنگا بھلا جو آیا پاس اس پری کے ماہرؔ
چلتے ہوئے وہ ہو کر بیمار گھر سے نکلا