گرچہ بنتا نہیں ڈھب سونے کا جاناں سے لپٹ
گرچہ بنتا نہیں ڈھب سونے کا جاناں سے لپٹ
ایک دن جاؤں گا پر اس کے میں داماں سے لپٹ
اے فلک تجھ سے تمنا ہے کہ اس جاڑے میں
سوئیے گرم ہو اس مہر درخشاں سے لپٹ
باد مدت جو اسے سیر چمن میں دیکھا
میں گیا دوڑ کے اس سرو خراماں سے لپٹ
باغباں نے جو نہ دی رفعت گل گشت ہمیں
بت سے ہو رہ گئے دیوار گلستاں سے لپٹ
ماہرؔ اس شوخ نے جب تیر نگہ کا پھینکا
اس کے پیکان رہے آہ رگ جاں سے لپٹ