بات کیجے غیر سے اور ہم سے منہ کو موڑیئے

بات کیجے غیر سے اور ہم سے منہ کو موڑیئے
ٹک خدا سے ڈریے ان وضعوں کو اپنی چھوڑیئے


منہ نہ موڑے گا یہ عاصی گر یوں ہی منظور ہے
لیجئے سنگ جفا اور شیشۂ دل توڑیئے


توڑنا دل کا تمہارے آگے گو آسان ہے
پر تمہیں تب جانیں جب ٹوٹے بھی دل کو جوڑئیے


یار بے پروا و جانب دار اس کی خلق سب
ہائے کس کے سامنے جا سر کو اپنے پھوڑیے


توڑ کر کچھ اس سے ماہرؔ ہم کو بن آتا نہیں
دل میں ہے پھر اس کے آگے ہاتھ اپنے جوڑئیے