میں تو مزاحم نہیں غیر کے ہاں جائیے
میں تو مزاحم نہیں غیر کے ہاں جائیے
گاہ قدم رنجہ آپ یاں بھی تو فرمائیے
تم سے تو غیر از رضا چارہ نہیں مجھ کو لیک
کعبۂ دل کو مرے سوچ کے ٹک ڈھک جائیے
قصد کہیں اور کا ہم سے یہ کہہ کر چلے
جاؤں ہوں گھر آئیو یوں تو نہ بہکائیے
اور جگہ کب ملے دل کی خبر ہاں مگر
تیری گلی میں سراغ ڈھونڈئیے تو پائیے
ماہرؔ بے چارہ پر کر کے یہ جور و جفا
پھر نہ زباں اپنی پر نام وفا لائیے