لیے میں قدم جو اس کے تو کیا عتاب الٹا
لیے میں قدم جو اس کے تو کیا عتاب الٹا
کہی بات میں نے سیدھی تو دیا جواب الٹا
وہ جو غیر ہیں سو ان سے تمہیں بے تکلفی ہے
ہمیں دیکھ کر کے اب تم کرو ہو حجاب الٹا
یہ وہ دور ہے عزیزو ہے نجیب گردی اس میں
چلی باد اب وہ جس سے ورق کتاب الٹا
وہیں مہر ذرہ ہو کر لگا آنکھ کو جھپکنے
لب بام ان نے رخ سے جو سحر نقاب الٹا
میں تلاش میں کل اس کے پھرا در بدر وہ ماہرؔ
نہ ملا تو گھر کو اپنے میں پھرا خراب الٹا