بشیر دادا کی غزل

    سفر میں راستہ جو پر خطر ملا تھا مجھے

    سفر میں راستہ جو پر خطر ملا تھا مجھے بہت ہی خوب تھا کیوں راہبر ملا تھا مجھے جہاں میں جب کوئی جنس گراں شناس نہ تھا تو اتنا بیش بہا کیوں گہر ملا تھا مجھے پھر اس کے بعد مرا سر رہا نہ شانوں پر دیار عشق میں وہ سنگ در ملا تھا مجھے میں تا حیات فرشتوں کے پر کتر لیتا جگر کا درد مگر مختصر ...

    مزید پڑھیے

    مرے نالوں سے جلتے ہیں مری آہوں سے جلتے ہیں

    مرے نالوں سے جلتے ہیں مری آہوں سے جلتے ہیں مرے دل کے نہاں خانے مرے ہاتھوں سے جلتے ہیں حقیقت میں مسرت کی بہاریں جن کو حاصل ہیں وہی اکثر مرے جھڑتے ہوئے خوابوں سے جلتے ہیں مرا ان سے لپٹ جانا وہ اک لحظہ تصور تھا حریف دل اسی دم سے مری بانہوں سے جلتے ہیں شب غم سے مری رکتی اکھڑتی سانس ...

    مزید پڑھیے

    جانے کیوں روح تن بدن میں نہیں

    جانے کیوں روح تن بدن میں نہیں آج میں اپنے پیرہن میں نہیں چار دن بھی وہ چاندنی نہ رہی آج سائے بھی انجمن میں نہیں اب سبھی اجنبی سے لگتے ہیں ایسا لگتا ہے میں وطن میں نہیں اب نہ آہ جگر میں سوز رہا اور وہ درد بھی گھٹن میں نہیں گل شہکار چھوڑ دے الجھن اب مرا ذکر بھی چمن میں نہیں اب ...

    مزید پڑھیے

    دشت ایسے گلشن میں گل پہ گل کھلانے کی ہر ادا مبارک ہو

    دشت ایسے گلشن میں گل پہ گل کھلانے کی ہر ادا مبارک ہو ننھے منھے غنچوں سے خود کشی کرانے کا مشغلہ مبارک ہو پر بریدہ بلبل نے جس جگہ بھی تنکوں سے گھونسلے بنائے تھے وہ چمن جلانے کو اب بھی تیرے ہاتھوں میں صاعقہ مبارک ہو تو نے جن بیچاروں کے کم سنوں کی لاشوں پر پاۓ تخت رکھے ہیں ان کے جسم ...

    مزید پڑھیے

    ترے بعد اس جہاں میں کوئی دوسرا نہیں تھا

    ترے بعد اس جہاں میں کوئی دوسرا نہیں تھا ارے بے مثال تجھ سا کوئی بے وفا نہیں تھا مرا ڈوبتا سفینہ کہوں کیسے پار اترا مرے ساتھ اک خدا تھا کوئی نا خدا نہیں تھا ترے عشق کے تلاطم نے ڈبو دیا ہے ورنہ تو اے موج ریگ میں بھی کوئی بلبلا نہیں تھا تو ٹھٹھرتی سردیوں میں کبھی آگ لینے آتی میں ...

    مزید پڑھیے

    سکون دل ہو مگر تم بچا سکے نہ مجھے

    سکون دل ہو مگر تم بچا سکے نہ مجھے دلیل درد جگر تم بچا سکے نہ مجھے تمہی سفینہ تمہی نا خدا تمہی ساحل میں ڈوبتا ہوں مگر تم بچا سکے نہ مجھے کسی کے دست شفا کیسے میرے کام آئیں مرے طبیب اگر تم بچا سکے نہ مجھے ہوں شب گزیدہ غم دل بچھڑ گئے تم بھی مرے شریک سفر تم بچا سکے نہ مجھے لگے ہیں دل ...

    مزید پڑھیے

    خواب تھا ارمان تھا کیا کچھ تری پلکوں پہ تھا

    خواب تھا ارمان تھا کیا کچھ تری پلکوں پہ تھا وہ ہمارا ذکر جو کل تک ترے ہونٹوں پہ تھا وہ مسافر پا بجولاں جانے کیوں لب دوز تھے ایک جیسا درد افسانہ سبھی چہروں پہ تھا خوش نصیبوں کو پہاڑوں سے خزانے مل گئے مجھ کو وہ بھی مل نہ پایا جو مرے ہونٹوں پہ تھا مرحبا تیرا ہنر تو بھول بھی کیسے ...

    مزید پڑھیے

    محبت کی ہوائے دل ربا سے جھوٹ بولے گی

    محبت کی ہوائے دل ربا سے جھوٹ بولے گی حسیں کاذب ہے وہ اہل وفا سے جھوٹ بولے گی وہ اک اک جھوٹ جھٹلانے کو سو سو جھوٹ بولے گی وہ خود سے جھوٹ بولے گی خدا سے جھوٹ بولے گی مرے معصوم سچ کو کچہری میں لا کھڑا کر کے کوئی دیکھے کہ وہ کس کس ادا سے جھوٹ بولے گی اسی کے جھوٹ سے گرداب میں اس کا ...

    مزید پڑھیے

    پیار کے کھٹے میٹھے نامے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں

    پیار کے کھٹے میٹھے نامے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں ہر شب کو جانے انجانے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں آج بھی فرقت کے لمحوں میں میرے نام کے حرف عداوت ٹیڑھے میڑھے ترچھے آڑے وہ لکھتی ہے میں پڑھتا ہوں میں نازک احساس لکھوں تو بوجھ تلے وہ دب جاتی ہے لفظ جواباً پتھر باندھے وہ لکھتی ہے میں ...

    مزید پڑھیے

    مرے دل گلستاں کو کس لئے آباد کرنا تھا

    مرے دل گلستاں کو کس لئے آباد کرنا تھا اگر اس کو مرے حق سے مجھے آزاد کرنا تھا مری سانسیں مرے گھٹ گھٹ کے مر جانے پہ چلتی ہیں اسے شاید مجھے منت کش فریاد کرنا تھا مجھے اک اجنبی نے ڈوبنے سے کیوں بچایا تھا میں اب سمجھا اسے خود ہی مجھے برباد کرنا تھا وہ محبوبہ تو اک شعلہ فشاں ہے پھول ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2