وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں
وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں تھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمع انجمن آج وہ شکلیں چراغ زیر داماں ہو گئیں اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں دم رکا تھا جس کی الجھن سے مرے سینے میں آہ پھر ...