Aziz Lakhnavi

عزیز لکھنوی

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

One of the most prominent masters of Classical ghazal from Lucknow

عزیز لکھنوی کی غزل

    وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں

    وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں تھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمع انجمن آج وہ شکلیں چراغ زیر داماں ہو گئیں اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں دم رکا تھا جس کی الجھن سے مرے سینے میں آہ پھر ...

    مزید پڑھیے

    اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی

    اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی توبہ بتوں کے آگے ذکر خدا پرستی اک خنجر قضا ہے اک نشتر جفا ہے وہ چشم شوخ جو ہے محو حیا پرستی دکھلاؤں گا تماشا اس آئنے میں تم کو صبح ازل سے دل ہے محو صفا پرستی ظالم کی ہے یہ کوشش اس کو کہیں مٹا دوں مظلوم دل کو میرے فکر بقا پرستی کیوں ساز و برگ ہستی ...

    مزید پڑھیے

    جام خالی جہاں نظر آیا

    جام خالی جہاں نظر آیا میری آنکھوں میں خوں اتر آیا وہ بہت کم کسی نے دیکھا ہے مجھ کو جو کچھ یہاں نظر آیا جھک گئے آسمان سجدے میں کون یہ اپنے بام پر آیا کانپ اٹھا چرخ ہل گئی دنیا وہ جہاں اپنی بات پر آیا اس نے پوچھا مزاج کیسا ہے دل جو امڈا ہوا تھا بھر آیا جب کبھی اس نے کی نظر مجھ ...

    مزید پڑھیے

    یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے

    یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے کہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے زبان رک گئی آخر سحر کے ہوتے ہی! تمام رات کٹی دل سے گفتگو کرتے سواد شہر خموشاں کا دیکھیے منظر! سنا نہ ہو جو خموشی کو گفتگو کرتے تمام روح کی لذت اسی پہ تھی موقوف کہ زندگی میں کبھی تم سے گفتگو کرتے جواب حضرت ...

    مزید پڑھیے

    نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی

    نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی کس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئی وہ نظر شوخ و فتنہ زا ہی سہی کیوں مرے حال زار پر نہ ہوئی بزم میں یہ ادا ہمیں سمجھے سب کو دیکھا ادھر نظر نہ ہوئی اے مرا حال پوچھنے والے تجھ کو اب تک مری خبر نہ ہوئی ہم اسی زندگی پہ مرتے ہیں جو یہاں چین سے بسر نہ ...

    مزید پڑھیے

    میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی

    میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی اے ستم گر یہ دل لگی کیسی کھل گئی پھر کوئی رگ دل کیا دیدۂ خشک ہیں نمی کیسی ہوش ہے تجھ کو خاک کے پتلے یہ تمرد یہ سرکشی کیسی تھا یہ اک امتحاں طبیعت کا ورنہ ناصح سے دوستی کیسی رو رہا ہوں اسی تصور میں دی تھی یہ مجھ کو زندگی کیسی اب تو اس در تک آ گئے ہو ...

    مزید پڑھیے

    مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں

    مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں نہ آنا اور پھر الزام دینا کہ اتنے بے اثر نالے کئے کیوں پس خم پینے میں ہے کیا بزرگی جو پینا ہے تو پھر چھپ کر پئے کیوں جو دی تھی حسن میں یہ دل فریبی مجھے ہوش و حواس اتنے دیے کیوں خیال جنبش مژگاں نہ رکھا ہمارے زخم میں ٹانکے ...

    مزید پڑھیے

    یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں

    یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں فقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیں کہو کچھ حقیقت مشتہر کہ مجھے کہیں کی خبر نہیں یہ مناظر دو جہاں ہیں کیا جو فریب ذوق نظر نہیں کسی آہ میں نہیں سوز جب کسی نالے میں جب اثر نہیں یہ کمال سوزش دل نہیں یہ فروغ داغ جگر نہیں چمک اٹھ ...

    مزید پڑھیے

    بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے

    بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے سوا تیرے تری محفل میں کیا ہے بتاؤں کیا کہ میرے دل میں کیا ہے تو ہی تو ہے بھری محفل میں کیا ہے کسی کے بجھتے دل کی ہے نشانی چراغ سرحد منزل میں کیا ہے بجز نقش پشیمانیٔ قاتل نگاہ حسرت بسمل میں کیا ہے جفاؤں کی بھی حد ہوتی ہے کوئی خدا معلوم اس کے دل میں ...

    مزید پڑھیے

    مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں

    مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں فریضہ ہے ادا فرما رہے ہیں دھواں اٹھتا ہے اک اک موئے تن سے سزا اپنے کیے کی پا ہے ہیں طلسم ہستیٔ فانی دکھا کر ابھی کچھ دیر وہ بھلا رہے ہیں جہاں سے کل ہمیں آنا پڑا تھا وہیں مجبور ہو کر جا رہے ہیں دکھا دیں گے عزیزؔ انجام دنیا ابھی تو خیر دھوکا کھا رہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5