میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی
اے ستم گر یہ دل لگی کیسی


کھل گئی پھر کوئی رگ دل کیا
دیدۂ خشک ہیں نمی کیسی


ہوش ہے تجھ کو خاک کے پتلے
یہ تمرد یہ سرکشی کیسی


تھا یہ اک امتحاں طبیعت کا
ورنہ ناصح سے دوستی کیسی


رو رہا ہوں اسی تصور میں
دی تھی یہ مجھ کو زندگی کیسی


اب تو اس در تک آ گئے ہو عزیزؔ
سنبھلو سنبھلو یہ بے خودی کیسی