Aziz Lakhnavi

عزیز لکھنوی

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

One of the most prominent masters of Classical ghazal from Lucknow

عزیز لکھنوی کی غزل

    جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے

    جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے پردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیے کیا دل جگر ہے چاہنے والوں کو دیکھیے میرے سکوت اپنے سوالوں کو دیکھیے اب بھی ہیں ایسے لوگ کہ جن سے سبق ملے دل مردہ ہے تو زندہ مثالوں کو دیکھیے کیا دیکھتے ہیں آپ بہار نمو ابھی جب ایڑیوں تک آئیں تو بالوں کو ...

    مزید پڑھیے

    چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریں

    چارہ گر چپ ہیں کیوں علاج کریں کچھ تو اپنے کئے کی لاج کر ان سے کس نے کہا تھا وہ مجھ کو فرد ہستی میں اندراج کریں روز کھٹکا سا دل میں رہتا ہے دیکھیے کیا وہ حکم آج کریں فرصت زیست کم ہی کام بہت کل جو کرنا ہے ہم کو آج کریں چارہ گر بھی نہ کیا کریں گے یاد کر سکیں جس قدر علاج کریں سب اسی ...

    مزید پڑھیے

    جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے

    جیتے ہیں کیسے ایسی مثالوں کو دیکھیے پردہ اٹھا کے چاہنے والوں کو دیکھیے کیا دل جگر ہے چاہنے والوں کو دیکھیے میرے سکوت اپنے سوالوں کو دیکھیے اب بھی ہیں ایسے لوگ کہ جن سے سبق ملے دل مردہ ہے تو زندہ مثالوں کو دیکھیے کیا دیکھتے ہیں آپ بہار نمو ابھی جب ایڑیاں تک آئیں تو بالوں کو ...

    مزید پڑھیے

    حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے

    حسن عالم سوز نامحدود ہونا چاہئے ہر تجلی آفتاب آلود ہونا چاہئے حسن نیت ہے دلیل حسن انجام‌ عمل سعی میں بھی جلوۂ مقصود ہونا چاہئے ایک ہی جلوہ ہے جب ہنگامہ آرائے شہود پھر وہی شاہد وہی مشہود ہونا چاہئے حسن عالم سوز کا فیض تجلی عام ہے ایک اک ذرہ یہاں مسجود ہونا چاہئے شانہ و آئینہ ...

    مزید پڑھیے

    دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں

    دل آیا اس طرح آخر فریب ساز و ساماں میں الجھ کر جیسے رہ جائے کوئی خواب پریشاں میں یہ مانا ذرے ذرے پر تمہاری مہر ازل سے ہے مگر کیا میری گنجائش نہیں شہر خموشاں میں پتہ اس کی نگاہ وحشت افزا کا لگانا ہے نگاہیں وحشیوں کی دیکھتا پھرتا ہوں زنداں میں یہی ہے روح کا جوہر تم آؤ گے تو نکلے ...

    مزید پڑھیے

    رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا

    رسم ایسوں سے بڑھانا ہی نہ تھا خدمت ناصح میں جانا ہی نہ تھا بڑھ گئے کچھ اور ان کے حوصلے رونے والوں کو ہنسانا ہی نہ تھا دل کا بھی رکھنا تھا ہم کو کچھ خیال اس طرح آنسو بہانا ہی نہ تھا کل زمانہ خود مٹا دیتا جنہیں ایسے نقشوں کو مٹانا ہی نہ تھا بے پیے واعظ کو میری رائے میں مسجد جامع ...

    مزید پڑھیے

    کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی

    کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی اب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کی ڈوب دے دے بادۂ گل رنگ میں زاہد اگر دیکھیے رنگینیاں پھر جامۂ احرام کی عکس ابرو دیکھتے ہیں بادۂ سرجوش میں عید ہے ساقی پرستوں میں ہلال جام کی ابتدائے عشق ہے اور بجھ رہا ہے دل مرا ہو چلی دھیمی ابھی سے لو چراغ ...

    مزید پڑھیے

    دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا

    دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا یہ طول اس خلاصۂ ایجاد سے ہوا فصل جنوں میں سینہ و ناخن کو میرے دیکھ کیا بے ستوں پہ تیشہ فرہاد سے ہوا رحمت نے بڑھ کے سرد جہنم کو کر دیا کیسا قصور یہ دل ناشاد سے ہوا خوش ہوں میں وقت نزع خوشا لذت فراغ جو کچھ ہوا وہ آپ کے ارشاد سے ہوا یہ ہے حقیقت عدم و ...

    مزید پڑھیے

    کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا

    کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا اس میں جوہر ہے مری آئینہ سیمائی کا طور کشتہ ہے اسی ناز خود آرائی کا برق کی لہر ہے نقشہ تری انگڑائی کا عشق اک تبصرہ ہے حسن کی رعنائی پر حسن اک فلسفہ ہے عشق کی رسوائی کا آج اک خاک کا ذرہ بھی نہیں باقی ہے دل برباد یہ حاصل ہے خود آرائی کا یاد ...

    مزید پڑھیے

    کام دنیا میں بہت کرنا ہے

    کام دنیا میں بہت کرنا ہے قبل مرنے کے ہمیں مرنا ہے آئیے نزع کا ہنگام ہے اب مشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے دل نے یہ کہہ کے کہیں چھوڑا ساتھ ہم کو کچھ کام یہاں کرنا ہے قتل کرنے میں تکلف نہ کرو آخر اک روز ہمیں مرنا ہے تم سے اک روز کریں گے تقریر اپنی باتوں میں اثر بھرنا ہے تم کو دکھلائیں گے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5