اس وہم کی انتہا نہیں ہے
اس وہم کی انتہا نہیں ہے سب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہے کیا اس کا سراغ کوئی پائے جس چیز کی ابتدا نہیں ہے کھلتا ہی نہیں فریب ہستی کچھ بھی نہیں اور کیا نہیں ہے اس طرح ستم وہ کر رہے ہیں جیسے میرا خدا نہیں ہے تم خوش ہو تو ہے مجھے ندامت ہر چند مری خطا نہیں ہے دیکھو تو نگاہ واپسیں کو اس ایک ...