Aziz Lakhnavi

عزیز لکھنوی

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

One of the most prominent masters of Classical ghazal from Lucknow

عزیز لکھنوی کی غزل

    بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں

    بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں کہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میں لہو رونے لگیں گے ساز عشرت چھیڑنے والے ارے یہ درد آواز شکست شیشۂ دل میں یہ چھینٹیں خون کی کافی ہیں میرے بخشوانے کو نظر آتی ہے جنت وسعت دامان قاتل میں ابد تک کوکب بخت سعادت بن کے چمکیں گے ہوئے ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کی رات یاد آتی ہے

    ہجر کی رات یاد آتی ہے پھر وہی بات یاد آتی ہے تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی بات پر بات یاد آتی ہے تم تھے اور ہم تھے چاند نکلا تھا ہائے وہ رات یاد آتی ہے صبح کے وقت ذرے ذرے کی وہ مناجات یاد آتی ہے ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی اب تو دن رات یاد آتی ہے مے سے توبہ تو کی عزیزؔ مگر اکثر ...

    مزید پڑھیے

    تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں

    تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں اصول زندگی جاں دادۂ قاتل سمجھتے ہیں نہ سر کو سر سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں غریق بحر الفت آشنائے قلزم معنی جہاں پر ڈوب کر ابھریں اسے ساحل سمجھتے ہیں دیار عشق کے ساکن زمیں پر پاؤں کیا رکھیں یہاں ...

    مزید پڑھیے

    واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے

    واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے کج بحثیٔ مجاز و حقیقت نہ کیجیے اٹھیے نہ آپ بزم سے غصہ میں اس قدر جاتا ہوں میں حضور قیامت نہ کیجیئے یاد آ ہی جاتا ہے کبھی ناصح کا قول بھی سب کیجیئے جہاں میں محبت نہ کیجیئے بیداد اور اس پہ یہ تاکید الحذر آ جائے دم لبوں پہ شکایت نہ کیجیئے زندوں میں ...

    مزید پڑھیے

    ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں

    ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں دل تو دل عشق میں سادہ ورق طور نہیں ایک ہم ہیں کہ کسی بات کا مقدور نہیں ایک وہ ہیں کہ کسی رنگ میں مجبور نہیں امتحاں گاہ محبت نہیں گل زار خلیل کون ایسا ہے جو زخموں سے یہاں چور نہیں نزع کا وقت ہے بیٹھا ہے سرہانے کوئی وقت اب وہ ہے کہ مرنا ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو

    پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو دل پر داغ مرا مایۂ صد سوز تو ہو کم سے کم کوئی تو ساماں ترے آنے کا کروں اطلس‌ چرخ تو ہو بستر گل دوز تو ہو رنگ پیراے چمن جوش میں کلیاں چٹکیں کھول دے بند نقاب آج کہ نو روز تو ہو دل میں پیوست نہ ہو جو وہ نظر ہی کیا ہے تیر ترکش میں اگر ہو تو جگر دوز تو ...

    مزید پڑھیے

    جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا

    جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا نور جل جائے ابھی چشم تماشائی کا رنگ ہر پھول میں ہے حسن خود آرائی کا چمن دہر ہے محضر تری یکتائی کا اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا اف ترے حسن جہاں سوز کی پر زور کشش نور سب کھینچ لیا چشم تماشائی کا دیکھ ...

    مزید پڑھیے

    دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا

    دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا وہ مرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا قابل دید ہے اس گھر کا بھی ویراں ہونا جس کے ہر گوشہ میں مخفی تھا بیاباں ہونا جی نہ اٹھوں گا ہے بیکار پشیماں ہونا جاؤ اب ہو چکا جو کچھ تھا مری جاں ہونا واہمہ مجھ کو دکھاتا ہے جنوں کے ساماں نظر آتا ہے مجھے گھر کا ...

    مزید پڑھیے

    بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو

    بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو آئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھو محدود ہے نظارہ جب ہیں یہی دو عالم یا اپنی طرف دیکھو یا میری طرف دیکھو ملنے سے نگاہوں کے کیا فائدہ ہوتا ہے یہ بات میں سمجھا دوں تم میری طرف دیکھو منہ پھیر لیا سب نے بیمار کو جب دیکھا دیکھا نہیں جاتا وہ تم جس ...

    مزید پڑھیے

    غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری

    غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری یہ جنس مشترک ہے جو کبھی ان کی کبھی میری حجاب اٹھتے چلے جاتے ہیں اور میں بڑھتا جاتا ہوں کہاں تک مجھ کو لے جاتی ہے دیکھوں بے خودی میری توہم تھا مجھے نقش دوئی کس طرح مٹتا ہے نقاب رخ الٹ کر اس نے صورت کھینچ دی میری ادھر بھی اڑ کے آ خاکستر دل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5