بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں
بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں کہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میں لہو رونے لگیں گے ساز عشرت چھیڑنے والے ارے یہ درد آواز شکست شیشۂ دل میں یہ چھینٹیں خون کی کافی ہیں میرے بخشوانے کو نظر آتی ہے جنت وسعت دامان قاتل میں ابد تک کوکب بخت سعادت بن کے چمکیں گے ہوئے ...