مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں
یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں


نہ آنا اور پھر الزام دینا
کہ اتنے بے اثر نالے کئے کیوں


پس خم پینے میں ہے کیا بزرگی
جو پینا ہے تو پھر چھپ کر پئے کیوں


جو دی تھی حسن میں یہ دل فریبی
مجھے ہوش و حواس اتنے دیے کیوں


خیال جنبش مژگاں نہ رکھا
ہمارے زخم میں ٹانکے دیے کیوں


عزیزؔ الزام دیتا ہے مجھے ضبط
نہ تھی تاثیر تو نالے کئے کیوں