Akhtar Saeed Khan

اختر سعید خان

ترقی پسند ادبی نظرے کے شاعر، انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری بھی رہے

A poet with sympathies for progressive ideology, also worked as the secretary of Progressive Writers Association

اختر سعید خان کی غزل

    نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی

    نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی یہ رات پھر مری آنکھوں سے آج ہار گئی لئے ہوئے کوئی افسانۂ بہار گئی صبا چمن سے بہت آج سوگوار گئی ہوئی جو صبح تو اشکوں سے جگمگا اٹھی جو آئی شام تو یادوں سے مشک بار گئی اسی نگاہ نے مارا الم پرستوں کو وہی نگاہ مری زندگی سنوار گئی زمین کوئے ملامت بھی ...

    مزید پڑھیے

    کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں

    کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں پھول کے سائے میں مرجھایا ہوا پتا ہوں میں خاک کا ذرہ بھی کوئی تیرے دامن میں نہ تھا قدر کر اے زندگی ٹوٹا ہوا تارا ہوں میں ہر دھڑکتے دل سے انجانا سا رشتہ ہے مرا آگ دامن میں کسی کے بھی لگے جلتا ہوں میں اپنی تاریکی سمیٹے پوچھتی ہے مجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا

    سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا رنگ و نکہت گل پر اپنا تھا اجارا کیا کھیل ہے محبت میں جان و دل کا سودا کیا دیکھیے دکھاتی ہے اب یہ زندگی کیا کیا جب بھی جی امڈ آیا رو لیے گھڑی بھر کو آنسوؤں کی بارش سے موسموں کا رشتہ کیا کب سر نظارہ تھا ہم کو بزم عالم کا یوں بھی دیکھ کر تم کو اور ...

    مزید پڑھیے

    تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے

    تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے ترا وجود مری ذات کا اجالا ہے حریف پرتو مہتاب ہے جمال ترا کچھ اور لگتا ہے دل کش جو دور ہوتا ہے مرے یقین کی معصومیت کو مت ٹوکو مری نگاہ میں ہر نقش اک تماشا ہے نظر تو آئے کوئی راہ زندگانی کی تمام عالم امکاں غبار صحرا ہے نہ آرزو سے کھلا ہے نہ جستجو سے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے

    آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے عالم کیا کیا دکھا رہا ہے عالم اک انتظار کا ہے کھلتا نہیں انتظار کیا ہے قطرہ قطرہ جو پی چکا ہے دریا دریا پکارتا ہے کیا کہہ گئی زندگی کی آہٹ جو ہے کسی سوچ میں کھڑا ہے اے موج نسیم صبح گاہی ہر غنچہ کا دل دھڑک رہا ہے تم اور ذرا قریب آ جاؤ خنجر رگ جاں تک ...

    مزید پڑھیے

    یقین ہے نہ گماں ہے ذرا سنبھل کے چلو

    یقین ہے نہ گماں ہے ذرا سنبھل کے چلو عجیب رنگ جہاں ہے ذرا سنبھل کے چلو سلگتے خوابوں کی بستی ہے رہ گزار حیات یہاں دھواں ہی دھواں ہے ذرا سنبھل کے چلو روش روش ہے گزر گاہ نکہت برباد کلی کلی نگراں ہے ذرا سنبھل کے چلو جو زخم دے کے گئی ہے ابھی نسیم سحر سکوت گل سے عیاں ہے ذرا سنبھل کے ...

    مزید پڑھیے

    تم ہو یا چھیڑتی ہے یاد سحر کوئی تو ہے

    تم ہو یا چھیڑتی ہے یاد سحر کوئی تو ہے کھٹکھٹاتا ہے جو یہ خواب کا در کوئی تو ہے دل پہ پڑتی ہوئی دزدیدہ نظر کوئی تو ہے جس طرف دیکھ رہا ہوں میں ادھر کوئی تو ہے ایسے ناداں نہیں راتوں میں بھٹکنے والے جاگتی آنکھوں میں خورشید سحر کوئی تو ہے خود بخود ہاتھ گریباں کی طرف اٹھتے ...

    مزید پڑھیے

    گزرنا ہے جی سے گزر جائیے

    گزرنا ہے جی سے گزر جائیے لیے دیدۂ تر کدھر جائیے کھلے دل سے ملتا نہیں اب کوئی اسے بھولنے کس کے گھر جائیے سبک رو ہے موج غم دل ابھی ابھی وقت ہے پار اتر جائیے الٹ تو دیا پردۂ شب مگر نہیں سوجھتا اب کدھر جائیے علاج غم دل نہ صحرا نہ گھر وہی ہو کا عالم جدھر جائیے اسی موڑ پر ہم ہوئے تھے ...

    مزید پڑھیے

    چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں

    چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں میں چراغ تہ دامان صبا ہوں کیا ہوں ہر نفس ہے مرا پروردۂ آغوش بلا اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں کیا ہوں مجھ پہ کھلتا ہی نہیں میرا ستم دیدہ وجود کوئی پتھر ہوں کہ گم کردہ صدا ہوں کیا ہوں دل میں ہوں اور زباں پر کبھی آتا بھی نہیں میں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی

    کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی زندگی ایک سانحا ہے ابھی نہیں موقع یہ پرسش غم کا دیکھیے دل دکھا ہوا ہے ابھی کل گزر جائے دل پہ کیا معلوم عشق سادہ سا واقعہ ہے ابھی بات پہنچی ہے اک نظر میں کہاں ہم تو سمجھے تھے ابتدا ہے ابھی کتنے نزدیک آ گئے ہیں وہ کس قدر ان سے فاصلہ ہے ابھی ساری باتیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4