Akhtar Saeed Khan

اختر سعید خان

ترقی پسند ادبی نظرے کے شاعر، انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری بھی رہے

A poet with sympathies for progressive ideology, also worked as the secretary of Progressive Writers Association

اختر سعید خان کے تمام مواد

36 غزل (Ghazal)

    نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی

    نہ آپ آئے نہ بیداد انتظار گئی یہ رات پھر مری آنکھوں سے آج ہار گئی لئے ہوئے کوئی افسانۂ بہار گئی صبا چمن سے بہت آج سوگوار گئی ہوئی جو صبح تو اشکوں سے جگمگا اٹھی جو آئی شام تو یادوں سے مشک بار گئی اسی نگاہ نے مارا الم پرستوں کو وہی نگاہ مری زندگی سنوار گئی زمین کوئے ملامت بھی ...

    مزید پڑھیے

    کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں

    کیسے سمجھاؤں نسیم صبح تجھ کو کیا ہوں میں پھول کے سائے میں مرجھایا ہوا پتا ہوں میں خاک کا ذرہ بھی کوئی تیرے دامن میں نہ تھا قدر کر اے زندگی ٹوٹا ہوا تارا ہوں میں ہر دھڑکتے دل سے انجانا سا رشتہ ہے مرا آگ دامن میں کسی کے بھی لگے جلتا ہوں میں اپنی تاریکی سمیٹے پوچھتی ہے مجھ سے ...

    مزید پڑھیے

    سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا

    سیر گاہ دنیا کا حاصل تماشا کیا رنگ و نکہت گل پر اپنا تھا اجارا کیا کھیل ہے محبت میں جان و دل کا سودا کیا دیکھیے دکھاتی ہے اب یہ زندگی کیا کیا جب بھی جی امڈ آیا رو لیے گھڑی بھر کو آنسوؤں کی بارش سے موسموں کا رشتہ کیا کب سر نظارہ تھا ہم کو بزم عالم کا یوں بھی دیکھ کر تم کو اور ...

    مزید پڑھیے

    تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے

    تری جبیں پہ مری صبح کا ستارہ ہے ترا وجود مری ذات کا اجالا ہے حریف پرتو مہتاب ہے جمال ترا کچھ اور لگتا ہے دل کش جو دور ہوتا ہے مرے یقین کی معصومیت کو مت ٹوکو مری نگاہ میں ہر نقش اک تماشا ہے نظر تو آئے کوئی راہ زندگانی کی تمام عالم امکاں غبار صحرا ہے نہ آرزو سے کھلا ہے نہ جستجو سے ...

    مزید پڑھیے

    آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے

    آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے عالم کیا کیا دکھا رہا ہے عالم اک انتظار کا ہے کھلتا نہیں انتظار کیا ہے قطرہ قطرہ جو پی چکا ہے دریا دریا پکارتا ہے کیا کہہ گئی زندگی کی آہٹ جو ہے کسی سوچ میں کھڑا ہے اے موج نسیم صبح گاہی ہر غنچہ کا دل دھڑک رہا ہے تم اور ذرا قریب آ جاؤ خنجر رگ جاں تک ...

    مزید پڑھیے

تمام