زندگی کو حرام مت کرنا

زندگی کو حرام مت کرنا
شوق کو بے لگام مت کرنا


شہرتیں بھی بری بلائیں ہیں
ان کو تم اپنے نام مت کرنا


ہو نہ جائے گمان سجدوں کا
اتنا جھک کر سلام مت کرنا


لوگ تجھ کو سہل سمجھنے لگیں
خود کو اتنا بھی عام مت کرنا


جن سے رسوائیاں ہو دامن میں
بھول کر بھی وہ کام مت کرنا


زرپرستوں سے راہ و رسم ہو پر
ذہن و دل کو غلام مت کرنا


جس میں ہو ظرف کی کمی خورشیدؔ
اس کا تم احترام مت کرنا