یہ نہ سمجھو غبار ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو غبار ہیں ہم لوگ
خوشبوؤں کی قطار ہیں ہم لوگ
لوگ ہم کو خزاں سمجھتے ہیں
جب کہ تازہ بہار ہیں ہم لوگ
یہ شرافت نہیں تو پھر کیا ہے
دشمنوں پر نثار ہیں ہم لوگ
وہ بھی کانٹوں سے کم نہیں ہیں کچھ
جن کی نظروں میں خار ہیں ہم لوگ
تھوڑا ہم سے بھی پیار کر لیجے
قابل اعتبار ہیں ہم لوگ
اپنی حالت سنور نہیں سکتی
بزدلی کا شکار ہیں ہم لوگ
آج مومن ہیں مائل پستی
اس کے خود ذمے دار ہیں ہم لوگ
تھے کبھی تاجدار اب خورشیدؔ
دامن تار تار ہیں ہم لوگ