اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں
اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں کرسی میز کا ان سے رشتہ دل کا رشتہ کوئی نہیں در پہ مرے وہ جب تک پہنچا کھل گئے راہ کے دروازے میں نے سوچا تھا کہ یہاں پر اس کا شناسا کوئی نہیں وہ بھی اچھے آپ بھی اچھے کون برا ہے لیکن ہاں جو ہم کو اچھا کہتا ہے اس سے اچھا کوئی نہیں آؤ ذرا چل کر ...