Khaleel Ahmad

خلیل احمد

خلیل احمد کے تمام مواد

18 غزل (Ghazal)

    مشکل میں مجھے اس کا سہارا بھی بہت تھا

    مشکل میں مجھے اس کا سہارا بھی بہت تھا وہ شخص مجھے جان سے پیارا بھی بہت تھا یہ کم ہے کہ کچھ دن وہ مرے ساتھ رہا ہے تنہا تھا تو یادوں کا سہارا بھی بہت تھا تنہائی اداسی یہ سیہ رات یہ جل تھل ایسے میں تو اک ٹوٹا ستارہ بھی بہت تھا اک میں کہ چلا آیا کوئی قدر نہیں کی اس نے تو مرا نام پکارا ...

    مزید پڑھیے

    صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر

    صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر کس نے کہا تھا تجھ سے کہ عشق اختیار کر میں نے کہا تھا شہر میں کئی با وفا بھی ہیں یہ تو نہیں کہا تھا کہ جا اعتبار کر بجھتا ہوا چراغ یہ فریاد کر گیا نفرت ہوا سے اور چراغوں سے پیار کر برسوں سے اک مقام پہ ٹھہرا ہوں میں خلیلؔ اس نے کہا تھا آؤں گا تو ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے

    مجھ کو تنہائیوں سے پیار بھی ہے تیرے آنے کا انتظار بھی ہے تو مجھے بے وفا سا لگتا ہے تیرے وعدے پہ اعتبار بھی ہے مدتوں بعد سر ہے سجدے میں بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے جس نے میرا سکون چھینا ہے میرا دشمن بھی میرا یار بھی ہے کس لئے یوں اداس بیٹھے ہو اپنا گھر بھی ہے کاروبار بھی ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    نئے خوابوں سے ڈر لگنے لگا ہے

    نئے خوابوں سے ڈر لگنے لگا ہے یہ رستہ پر خطر لگنے لگا ہے یہ کیسا دور آیا بے حسی کا مجھے زندان گھر لگنے لگا ہے بچھڑ جائے گا تو مجھ سے کسی دن نہ لگتا تھا مگر لگنے لگا ہے ذرا دیکھو مری سادہ طبیعت کہ قاتل چارہ گر لگنے لگا ہے سفر میں ہم سفر تم کیا ہوئے ہو سفر اب مختصر لگنے لگا ...

    مزید پڑھیے

    اس نئے سال کی آمد پہ میں کیا دوں تجھ کو

    اس نئے سال کی آمد پہ میں کیا دوں تجھ کو میرے دامن میں دعائیں ہیں دعا دوں تجھ کو سال رفتہ میں تجھے چاہا بہت یاد کیا دل یہ کہتا ہے کہ اس سال بھلا دوں تجھ کو تو نے چاہا ہے اسے جس کو تری قدر نہیں دل نادان بتا کیسی سزا دوں تجھ کو تو کہ ہر وقت رہا ہم سے خفا پھر بھی خلیلؔ دل پہ لکھا ہے ترا ...

    مزید پڑھیے

تمام