Mirza Farhan Ariz

مرزا فرحان عارض

مرزا فرحان عارض کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    اس کی یادوں سے لے کے منظوری

    اس کی یادوں سے لے کے منظوری بعد مدت کے نیند کی پوری وصل ہے اپنی ذات کی قربت ہجر ہے اپنے آپ سے دوری روشنی کر دیا جلا لیکن دھیان میں رکھ ہوا کی مخموری زندگی نام رکھ دیا اس کا نام رکھنا تھا جس کا مجبوری تم جو چاہو نہ دو کوئی اجرت دل مسلسل کرے گا مزدوری

    مزید پڑھیے

    بعض اوقات مجھ کو لگتا ہے

    بعض اوقات مجھ کو لگتا ہے زندگی بس نظر کا دھوکا ہے پیڑ پودے گرا دئے جس نے اس ہوا میں چراغ رکھا ہے دیکھ دریا اسی کو کہتے ہیں جو کناروں میں رہ کے بہتا ہے اک مصور کو جانتا ہوں میں دشت میں جو شجر بناتا ہے اس کی تعبیر کا بنے گا کیا میں نے جو خواب خود تراشا ہے روشنی کے قریب جتنا ہوں قد ...

    مزید پڑھیے

    تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ

    تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بری نظر اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ روپ دے دل کے اجاڑ باغ میں تازہ گلاب ڈھونڈ یہ نیک ہستیاں ہیں یہاں میرا کام کیا تو میرے واسطے کوئی جائے خراب ...

    مزید پڑھیے

    ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے

    ایک صورت تو ہے جو اس نے محبت کی ہے بات جذبے کی ہے یا بات ضرورت کی ہے وہ بھی کیسا ہے کسک دل کی سمجھتا ہی نہیں میں بھی کیسا ہوں نہ شکوہ نہ شکایت کی ہے حوصلہ ہار دیا جلد ہی میں نے اپنا چھوڑ دینے میں ذرا اس نے بھی عجلت کی ہے کیا ستم ہے کہ بہاروں کے حسیں موسم میں ہم پرندوں نے ترے شہر سے ...

    مزید پڑھیے

    ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے

    ترا عشق اور ہجر آلام دو تھے محبت میں اک دل پہ کہرام دو تھے تری آس کا تھا یہ عالم کہ شب بھر میں تنہا تھا کمرے میں اور جام دو تھے الجھ ہی گیا میں خریداری کرتے دکانوں میں ہر چیز کے دام دو تھے بڑے لوگ تھے میرے قصے میں شامل مگر میرے قصے میں بدنام دو تھے نکل آئے تھے وہ بھی جب چاند ...

    مزید پڑھیے

تمام