Mohammad Haneef Katib

محمد حنیف کاتب

محمد حنیف کاتب کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    کہکشاں پھول صبا اور نہ جانے کیا کیا

    کہکشاں پھول صبا اور نہ جانے کیا کیا ہم ترے شہر کو لائے ہیں سجانے کیا کیا بیش قیمت ہے تری خاک جواہر سے بھی دفن آغوش میں تیرے ہیں خزانے کیا کیا ہفت رنگی ہے ترا پیرہن دل آویز تو نے دیکھے ہیں دھنک رنگ زمانے کیا کیا میری آنکھوں میں سمٹ آئے ہیں منظر کیسے میرے ہونٹوں پہ مچلتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    روز و شب مجھ میں سماتا ہے کوئی

    روز و شب مجھ میں سماتا ہے کوئی نت نئے جلوے دکھاتا ہے کوئی چین سے کب مجھے سونا ہے نصیب وقت بے وقت بلاتا ہے کوئی بند ہے سلسلۂ آمد و رفت کوئی آتا ہے نہ جاتا ہے کوئی بارہا مجھ کو جلانے کے لئے بارہا مجھ کو بجھاتا ہے کوئی جاتے جاتے تو رلاتے ہیں سبھی آتے آتے بھی رلاتا ہے کوئی داخلے ...

    مزید پڑھیے

    تیرے دروازے جو آیا ہوا ہے

    تیرے دروازے جو آیا ہوا ہے وہ زمانے کا ستایا ہوا ہے آج لگتا ہے قیامت کی طرح آج اپنا بھی پرایا ہوا ہے تیرا پیغام ادھورا سا لگا ایسا لگتا ہے مٹایا ہوا ہے ایسی رنگت کہیں دیکھی نہ سنی کچھ تو میدے میں ملایا ہوا ہے تیرے وحشی نے گلابی رت میں آسماں سر پہ اٹھایا ہوا ہے دیس پردیس بھٹکتا ...

    مزید پڑھیے

    ساتھ وہ آخر شب تک رہتا

    ساتھ وہ آخر شب تک رہتا چاند رہتا بھی تو کب تک رہتا یا چلا آتا وہاں سے اٹھ کر یا وہیں عرض طلب تک رہتا ایسے محفل میں نہ ہوتے بدنام مدعا لرزش لب تک رہتا اس پہ کھل جاتے جنوں کے اسرار وہ اگر شور و شغب تک رہتا پیش قدمی کی دعائیں دیتا اک نگہبان عقب تک رہتا پہلی فرصت میں نکل آنا ...

    مزید پڑھیے

    اپنی پوشاک بدلنے کے لئے آئے ہیں

    اپنی پوشاک بدلنے کے لئے آئے ہیں ہم تری آگ میں جلنے کے لئے آئے ہیں کون کہتا ہے سنبھلنے کے لئے آئے ہیں ہم تو سرکار مچلنے کے لئے آئے ہیں ہم کہیں اور سے آئے ہیں یہاں پر ویسے اور یاں سے بھی نکلنے کے لئے آئے ہیں وادئ گل کا پتہ پوچھنے آئے ہیں یہاں اور یہاں پھولنے پھلنے کے لئے آئے ...

    مزید پڑھیے

تمام