کہکشاں پھول صبا اور نہ جانے کیا کیا
کہکشاں پھول صبا اور نہ جانے کیا کیا ہم ترے شہر کو لائے ہیں سجانے کیا کیا بیش قیمت ہے تری خاک جواہر سے بھی دفن آغوش میں تیرے ہیں خزانے کیا کیا ہفت رنگی ہے ترا پیرہن دل آویز تو نے دیکھے ہیں دھنک رنگ زمانے کیا کیا میری آنکھوں میں سمٹ آئے ہیں منظر کیسے میرے ہونٹوں پہ مچلتے ہیں ...