زندگی زندہ دلی کا نام ہے

جب جان لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے

 اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے

اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے

سب مایا ہے

انشاء جی کا یہ کلام جب بھی پڑھتا یا سنتا ہوں تو مجھے بچپن میں پڑھی ہوئی علامہ اقبال کی وہ خوبصورت نظم "ایک آرزو" یاد آتی ہے۔ جس میں وہ  دنیا کے شور شرابوں اور ہنگاموں سے اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے فطرت کی آغوش میں پناہ لینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں ۔

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری

دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروں

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اقبال جیسا ہمہ وقت پلٹنے جھپٹنے کی ترغیب دینے والا اور ستاروں سے آگے جہانوں کی خبر دینے والا بھی، کبھی کبھار ، فطرت کی گود میں سر رکھ کر سستانے کا آرزو مند نظر آتا ہے ۔ شاید اس لیے کہ اقبال کے نزدیک :

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

 فطرت کے لئے یہ تڑپ اور کشش انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ جدید نفسیاتی ماہرین اس حقیقت کے قائل ہیں کہ سیر و تفریح اور قدرت کے حسین اور دلنشین نظاروں کی قربت انسان کی نفسیات پر بہت خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سیر و سیاحت سے انسان میں Emotional bonding یعنی جذباتی ربط انگیزی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب آپ اکٹھے سفر کرتے ہیں، تو ایک ساتھ ہونے کا احساس آپ کو مزید قریب کر دیتا ہے۔ اکٹھا سفر کرنے والے لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کے جذبات کو اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔

اشفاق احمد صاحب کے نام سے کون واقف نہیں ۔ ایک بہت اچھے لکھاری کے طور پر تو انہیں سب جانتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کی ایک جہت سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ وہ جہت یہ ہے کہ اشفاق احمد صاحب سیاحت کے بھی بہت شوقین تھے۔ان کے اس شوق کا زیادہ تفصیل سے ذکر ہمیں ممتاز مفتی صاحب جو ان کے بہت قریبی دوستوں میں سے تھے، کی تحریروں میں ملتا ہے ۔ ان کے مطابق وہ اور ان کے دوستوں نے سات ارکان پر مشتمل ایک گروپ بنا رکھا تھا جسے انہوں نے "چھڈ یار گروپ" کا نام دے رکھا تھا .

ممتاز مفتی صاحب اور اشفاق احمد صاحب کے علاؤہ باقی پانچ دوستوں میں عکسی مفتی، حماد ،عمر، اعظمی اور مسعود قریشی شامل تھے ۔

اس گروپ کے ساتوں ممبران سیروسیاحت کے بڑے دلدادہ تھے لیکن جب بھی وہ سفر کا ارادہ کرتے تھے تو کسی نہ کسی رکن کی کوئی مصروفیات آڑے آ جاتی تھی اور سارے کا سارا پلان چوپٹ ہو جاتا تھا۔اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ جب بھی کوئی ساتھی "چھڈ یار" کا نعرہ بلند کرتے ہوئے کسی سیاحتی مقام کی سیر کا ارادہ ظاہر کرے گا تو سب دوستوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو ترک کرکے گروپ کے ہمراہ عازم سفر ہو جائیں گے.

اس گروپ کے قوانین و ضوابط بھی بہت دلچسپ تھے:

گروپ کے لیے لازم تھا کہ ہر سال دس بارہ دن کے لیے "چھڈ یار" منایا جائے۔

گروپ کے تمام ممبران چونکہ کافی معروف اور عالم فاضل تھے، اس لئے گروپ کے ممبران کے لئے لازم تھا کہ "چھڈ یار" منانے کے دوران اپنے معزز عہدے کو گھر چھوڑ کر آیا جائے۔

یہ بھی ضروری تھا کہ سفر کے دوران ہر کوئی اپنے اندر کے دم پخت بچے کو بیدار کرے ، اسے لاڈ پیار کرے اور کندھے پر بٹھا کر ساتھ لے جائے۔

اس گروپ کا ایک بہت اہم اصول یہ بھی تھا کہ سیاحت کے دوران کوئی علم و فضل اور عقل کی بات نہیں کرے گا تاہم بحث کی ممانعت نہ تھی۔ان احباب کے نزدیک بحث ایک معصوم اور بے ضرر طریقہ تھا وقت کاٹنے کا۔

ان اصولوں کے تحت یہ احباب کس قدر حسین اور پرلطف وقت گزارتے ہوں گے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں۔

کیسے کیسے لمحات میسر آتے ہوں گے ان افراد کو ان سیاحتوں کے دوران۔

آج کے بے ہنگم دور میں بہت ضروری ہے کہ کبھی کبھی چند ایام ایسے ضرور نکالے جائیں جب چھڈ یار کا نعرہ مستانہ

لگاتے ہوئے دنیا کی اس مادی دوڑ میں سے چند لمحات اپنے اور اپنے پیاروں کے لیے چرا لیے جائیں اور ان معصوم پلوں کو دل کے نہاں خانوں میں محفوظ کر لیا جائے۔ سینٹ آگسٹائن نے کہا تھا:

"The world is a book, and those who don't travel read only one page."

متعلقہ عنوانات