Meer Shamsuddeen Faiz

میر شمس الدین فیض

میر شمس الدین فیض کے تمام مواد

17 غزل (Ghazal)

    چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن (ردیف .. ے)

    چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن پتنگ پھر کہیں آنکھوں کو سینکتا نہ پھرے جو ہو طمانچۂ موج نسیم سے آگاہ حباب سر پہ لئے کاسۂ ریا نہ پھرے کلاہ فقر پہ نازاں ہوں میں بدولت عشق سر نیاز پہ میرے کبھی ہما نہ پھرے خیال خواب عدم گر نہ ہو گریباں گیر تو آنکھ موند کے یاں کوئی بلبلہ نہ پھرے نہ ...

    مزید پڑھیے

    مار ڈالا مجھے فرقت نے قضا سے پہلے

    مار ڈالا مجھے فرقت نے قضا سے پہلے ہو گیا کام ادا ان کی ادا سے پہلے سبقت احسان کو ہے ان کے مرے عصیاں پر عفو کرتے ہیں خطا کو وہ خطا سے پہلے ہم نے سکھلائے ہیں انداز وفا و اخلاص آگہی کب تھی انہیں رسم وفا سے پہلے کیوں نہ تقدیم مرے کفر کو اسلام پہ ہو بت کلیسا میں نظر آئے خدا سے پہلے

    مزید پڑھیے

    جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں

    جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں ہر سنگ و خشت کو ہم بت خانہ جانتے ہیں اے شمع حسن و خوبی دل ہے وہی ہمارا محفل میں آپ جس کو پروانہ جانتے ہیں وہ رشک باغ رضواں جب تک نہ جلوہ گر ہو ہم روضۂ ارم کو ویرانہ جانتے ہیں مرقد پہ کوہ کن کے اے فیضؔ یوں لکھا ہے دیوانے ہیں جو مجھ کو دیوانہ جانتے ...

    مزید پڑھیے

    ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے

    ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے اس بت کو پاس خاطر عشاق ہے سو ہے مستور سو حجاب میں اس کا ہے رخ مگر حسن و جمال شہرۂ آفاق ہے سو ہے سو سو طرح کے رنج ہمیں ہجر میں ہیں ایک مشتاق وصل یہ دل مشتاق ہے سو ہے پیش نگاہ مجمع تقلید ہے تو کیا دل کو خیال عالم اطلاق ہے سو ہے

    مزید پڑھیے

    جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا

    جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا شعلہ‌ٔ جوالہ حلقہ ہے مری زنجیر کا کام معنی سے نہیں صورت پرستی کے سوا خط رخسار بتاں خط ہے مری تقدیر کا عشق میں حد ناتواں ہوں مانی و بہزاد سے اٹھ نہیں سکتا کبھو خاکہ مری تصویر کا فیضؔ وصف مصحف رخسار میں یاں تک ہوں محو ہے مرے دیوان پر دھوکا مجھے ...

    مزید پڑھیے

تمام