کچھ اپنی بات کہو کچھ مری سنو مت سو
کچھ اپنی بات کہو کچھ مری سنو مت سو یہ رات پھر نہیں آنے کی دوستو مت سو کسے خبر کہ صبا کیا پیام لے آئے سدا دلوں کے دریچے کھلے رکھو مت سو بجھیں جو شمعیں تو روشن کرو دلوں کے چراغ نہ بجھنے والے ستاروں کا ساتھ دو مت سو جو سن سکو تو سنو تشنہ روح کی فریاد مثال ساغر مے دور میں رہو مت ...