قومی زبان

خوف سے اب یوں نہ اپنے گھر کا دروازہ لگا

خوف سے اب یوں نہ اپنے گھر کا دروازہ لگا تیز ہیں کتنی ہوائیں اس کا اندازہ لگا خشک تھا موسم مگر برسی گھٹا جب یاد کی دل کا مرجھایا ہوا غنچہ تر و تازہ لگا روشنی سی کر گئی قربت کسی کے جسم کی روح میں کھلتا ہوا مشرق کا دروازہ لگا یہ اندھیری رات بے نام و نشاں کر جائے گی اپنے چہرے پر ...

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکن ماتمی دھن سانس کو زنجیر کہنا

دل کی دھڑکن ماتمی دھن سانس کو زنجیر کہنا کوئی گر پوچھے تو اپنے عہد کی تفسیر کہنا ہر قدم پر بندشوں پابندیوں کا ذکر کرنا اور اس کو حاکمان وقت کی تحریر کہنا کب تلک معصوم چہروں کو ستم پیشہ لکھو گے آنکھ کو خنجر بتانا زلف کو زنجیر کہنا وہ گھنے اشجار وہ سائے تو رخصت ہو چکے لب دھول کو ...

مزید پڑھیے

لطف سے تیرے سوا درد مہک جاتا ہے

لطف سے تیرے سوا درد مہک جاتا ہے یہ وہ شعلہ ہے بجھاؤ تو بھڑک جاتا ہے اک زمانے کو رکھا تیرے تعلق سے عزیز سلسلہ دل کا بہت دور تلک جاتا ہے تم مرے ساتھ چلے ہو تو مرے ساتھ رہو کہ مسافر سر منزل بھی بھٹک جاتا ہے ہم تو وہ ہیں ترے وعدہ پہ بھی جی سکتے ہیں غنچہ پیغام صبا سے بھی چٹک جاتا ...

مزید پڑھیے

ہر مرگ آرزو کا نشاں دیر تک رہا

ہر مرگ آرزو کا نشاں دیر تک رہا جب شمع گل ہوئی تو دھواں دیر تک رہا وہ وقت ہائے سوئے حرم جب چلے تھے ہم دامان کش خیال بتاں دیر تک رہا کلیاں اداس پھول فسردہ صبا خموش اب کے چمن پہ رنگ خزاں دیر تک رہا مدت گزر چکی پہ خوشا لذت وصال ہر ماہ وش پہ اس کا گماں دیر تک رہا دار و رسن کا ذکر چھڑا ...

مزید پڑھیے

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں (ردیف .. ی)

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں کب سے دل کو کھرچ رہا ہے کوئی جانے کس صبح کی تمنا میں رات بھر شمع ساں جلا ہے کوئی فرصت زندگی بہت کم ہے اور بہت دیر آشنا ہے کوئی تم بھی سچے ہو میں بھی سچا ہوں کب یہاں جھوٹ بولتا ہے کوئی

مزید پڑھیے

مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح

مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح وہ کج ادا جو ملا بھی تو زندگی کی طرح ملا نہ تھا تو گماں اس پہ تھا فرشتوں کا جو اب ملا ہے تو لگتا ہے آدمی کی طرح کرن کرن اتر آئی ہے روزن دل سے کسی حسیں کی تمنا بھی روشنی کی طرح مری نگاہ سے دیکھو تو ہم زباں ہو جاؤ کہ دشمنی بھی کسی کی ہے دوستی کی ...

مزید پڑھیے

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے یا چھلکتی ہوئی آنکھوں کو بھی پتھر کر دے تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے آ کسی دن مرے احساس کو پیکر کر دے قید ہونے سے رہیں نیند کی چنچل پریاں چاہے جتنا بھی غلافوں کو معطر کر دے دل لبھاتے ہوئے خوابوں سے کہیں بہتر ہے ایک آنسو کہ جو آنکھوں کو ...

مزید پڑھیے

وار ہوا کچھ اتنا گہرا پانی کا

وار ہوا کچھ اتنا گہرا پانی کا نکلا چٹانوں سے رستہ پانی کا دیکھا خون تو آنکھوں سے آنسو نکلے جوڑ گیا دونوں کو رشتہ پانی کا تیروں کی بوچھاڑ بھی سہنا ہے مجھ کو میرے ہاتھ میں ہے مشکیزہ پانی کا اڑتی ریت پہ لکھنا ہے تفسیر اسے جس نے سمجھ لیا ہے لہجہ پانی کا پگھلا سونا آنکھوں میں بھر ...

مزید پڑھیے

اجلے موتی ہم نے مانگے تھے کسی سے تھال بھر

اجلے موتی ہم نے مانگے تھے کسی سے تھال بھر اور اس نے دے دئیے آنسو ہمیں رومال بھر جس قدر پودے کھڑے تھے رہ گئے ہیں ڈال بھر دھوپ نے پھر بھی رویے کو نہ بدلا بال بھر یوں لگا آکاش جیسے مٹھیوں میں بھر لیا میرے قبضے میں پرندے آ گئے جب جال بھر اس کی آنکھوں کا بیاں اس کے سوا کیا ...

مزید پڑھیے

سمندروں میں اگر خلفشار آب نہ ہو

سمندروں میں اگر خلفشار آب نہ ہو سروں پہ سایہ فگن یہ غبار آب نہ ہو وہ آسمان سمجھتا ہے اپنی آنکھوں کو اسے بھی میری طرح انتظار آب نہ ہو ہر ایک لب پہ ہیں نغمات خشک سالی کے اب اس طرف کرم بے شمار آب نہ ہو کہیں فریب نہ نکلے پکار دریا کی ہم آب سمجھے ہیں جس کو غبار آب نہ ہو پھر اہتمام سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 990 سے 6203