لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا
لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا جس کو نہ میں سمجھا تھا وہی میرا خدا تھا میں دست صبا بن کے اسے چھیڑ رہا تھا وہ غنچۂ نو رس تھا ابھی تک نہ کھلا تھا پتھر کی طرح پھول مرے سر پہ لگا تھا اس وقت سبھی روئے تھے میں صرف ہنسا تھا اترا تھا رگ و پے میں مرے زہر کے مانند وہ درد کی صورت مرے پہلو ...