قومی زبان

لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا

لب تک جو نہ آیا تھا وہی حرف رسا تھا جس کو نہ میں سمجھا تھا وہی میرا خدا تھا میں دست صبا بن کے اسے چھیڑ رہا تھا وہ غنچۂ نو رس تھا ابھی تک نہ کھلا تھا پتھر کی طرح پھول مرے سر پہ لگا تھا اس وقت سبھی روئے تھے میں صرف ہنسا تھا اترا تھا رگ و پے میں مرے زہر کے مانند وہ درد کی صورت مرے پہلو ...

مزید پڑھیے

رات بھی باقی ہے صہبا بھی شیشہ بھی پیمانہ بھی

رات بھی باقی ہے صہبا بھی شیشہ بھی پیمانہ بھی ایسے میں کیوں چھیڑ نہ دیں ہم ذکر غم جانانہ بھی بستی میں ہر اک رہتا ہے اپنا بھی بیگانہ بھی حال کسی نے پوچھا دل کا درد کسی نے جانا بھی ہائے تجاہل آج ہمیں سے پوچھ رہے ہیں اہل خرد سنتے ہیں اس شہر میں رہتا ہے کوئی دیوانہ بھی آخر صف تک آتے ...

مزید پڑھیے

چراغ زیست کے دونوں سرے جلاؤ مت

چراغ زیست کے دونوں سرے جلاؤ مت اگر جلاؤ تو لو اس قدر بڑھاؤ مت اس آرزو میں کہ زندہ اٹھا لیے جاؤ خود اپنے دوش پہ اپنی صلیب اٹھاؤ مت سلگ رہا ہے جو دل وہ بھڑک بھی سکتا ہے قریب آؤ پر اتنے قریب آؤ مت جو زخم کھائے ہیں ان کو سدا عزیز رکھو جو تم کو بھول گیا ہو اسے بھلاؤ مت جہاں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

لائے تو نقد جاں سر بازار کیا کہیں

لائے تو نقد جاں سر بازار کیا کہیں ہر شخص ہے اسی کا خریدار کیا کہیں اک داستان تیشہ ہر اک سنگ و خشت ہے کیوں بولتے نہیں در و دیوار کیا کہیں اس کی گلی سے پھیر کے لے آئے جان و دل کتنا ہے زندگی سے ہمیں پیار کیا کہیں دشمن ہوئے ہیں اپنے ہوئے جب سے اس کے دوست خود کو کہیں دوانہ کہ ہشیار کیا ...

مزید پڑھیے

اک نہ آنے والے کا انتظار کرتے ہیں

اک نہ آنے والے کا انتظار کرتے ہیں شمع رہگزر ہیں ہم روز بجھتے جلتے ہیں میرے کچھ نہ کہنے کو حرف آرزو سمجھو خامشی میں بھی معنی کچھ نہ کچھ نکلتے ہیں ایک نشہ رہتا ہے تجھ سے مل کے پہروں تک نشہ جب نہیں ہوتا اور ہم بہکتے ہیں راہ درد میں کوئی ہم سفر نہیں ہوتا اپنی آگ میں خود ہی شمع ساں ...

مزید پڑھیے

فصل گل تہمت جنوں لائی

فصل گل تہمت جنوں لائی بستی بستی ہوئی ہے رسوائی شہر میں جب سے آ گیا ہوں ترے اور بھی بڑھ گئی ہے تنہائی آرزو ایک ناشگفتہ کلی جو سر شاخسار مرجھائی عاشقی اک دبی ہوئی سی چوٹ بھیگے موسم میں جو ابھر آئی زندگی شام غم کی بانہوں میں اک سلگتی ہوئی سی تنہائی لوگ کہتے ہیں اہل دل کو ...

مزید پڑھیے

جانے کیا وجہ بیگانگی ہے

جانے کیا وجہ بیگانگی ہے شہر میں جو بھی ہے اجنبی ہے آگ سی میرے دل میں لگی ہے پھر بھی کتنی خنک چاندنی ہے رات بھر شمع تنہا جلی ہے تب کہیں رات جا کر کٹی ہے ان کو کھو کر بھی میں جی رہا ہوں یہ کسی اور کی زندگی ہے زہر غم کام کر بھی چکا ہے مسکراہٹ لبوں پر وہی ہے تاب کے جام روشن رکھو ...

مزید پڑھیے

ہر پری وش کا اعتبار کرو

ہر پری وش کا اعتبار کرو زندگی صرف انتظار کرو ہم سے نفرت کرو کہ پیار کرو کوئی رشتہ تو استوار کرو ہم ہیں لذت کش گناہ وفا دوستو ہم کو سنگسار کرو زندگی ہو کہ مے کہ سچائی تلخ جو شے ہو اس سے پیار کرو ہر جنم پر بیاد سرو قداں جاں سپرد فراز دار کرو اپنے دامن کی چند کلیوں سے تم نہ ...

مزید پڑھیے

ایک تمہارے پیار کی خاطر جگ کے دکھ اپنائے تھے

ایک تمہارے پیار کی خاطر جگ کے دکھ اپنائے تھے ہم نے اپنے ایک دیپ سے کتنے دیپ جلائے تھے صرف جوانی کے کچھ دن ہی عمر کا حاصل ہوتے ہیں اور جوانی کے یہ دن بھی ہم کو راس نہ آئے تھے حسن کو ہم نے امر کہا تھا پیار کو سچا جانا تھا ایک جوانی کے کس بل پر سارے سچ جھٹلائے تھے اس کے بنا جو عمر ...

مزید پڑھیے

نقد دل و جاں اس کی خاطر رہن جام کرو

نقد دل و جاں اس کی خاطر رہن جام کرو میرؔ کے بادۂ غم خوردہ کو مے خواروں میں عام کرو قشقہ کھینچو دیر میں بیٹھو پیرویٔ اصنام کرو کیش برہمن کو اپناؤ جرم وفا کو عام کرو خواہ کوئی بہتان تراشو یا عائد الزام کرو ترک تعلق سے پہلے کچھ اور ہمیں بد نام کرو ساز شکست دل کی قیمت کون چکانے آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 988 سے 6203