قومی زبان

دن میں اشکوں کے نگیں دشت میں ہارے کتنے

دن میں اشکوں کے نگیں دشت میں ہارے کتنے رات ہم راہ لیے آ گئی تارے کتنے خواب آنکھوں کے سلا آئے گھروں کے اندر لوگ سڑکوں پہ لیے آ گئے نعرے کتنے خود کو نیلام کیا مصر کے بازاروں میں قرض یوسف نے محبت کے اتارے کتنے سب ہی مصروف عبادت ہیں گنے کون یہاں مسجدیں شہر میں کتنی ہیں منارے ...

مزید پڑھیے

وقفہ

سرد راتوں کی گرمی جھلستے دنوں کی ہوا لے گئی ریگزاروں پہ بارود کی بو سے جھلسے ہوئے خشک پتے بکھرنے لگے چیختے آگ اگلتے گرجتے ہوئے زہر آلود لہجے اچانک بدلنے لگے پیلی آنکھوں سے تاریک چشمے اترنے لگے سارے اخبار کی سرخیاں گھٹ گئیں سہمی سہمی زمیں اپنی آغوش میں ٹوٹے پھوٹے گھروندے چھپائے ...

مزید پڑھیے

مستقبل کا ایک دن

زمین اک دن فلک کے سینے میں کوئی خنجر اتار دے گی خلائیں چیخیں گی ٹوٹ کر جب گریں گے دھرتی پہ چاند تارے ادھر مسرت کا جشن ہوگا زمیں کے باسی بھریں گے اپنی ہوس کے دامن

مزید پڑھیے

عجیب بات

عجیب بات ہوئی رات ایک لمحے میں ہزاروں صدیوں نے برسوں کا روپ دھار لیا ہر ایک سال مہینوں میں ہو گیا تبدیل ہر ایک ماہ دنوں میں دنوں سے گھنٹوں میں ہر ایک گھنٹے بھی لمحات میں بدلنے لگے عجیب بات ہوئی پھر کہ ایک لمحہ بھی ہزاروں ٹکڑوں میں بکھرا پھر ایک ٹکڑا جب میرے وجود سے ٹکرا کے پاش پاش ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ

لمحہ دل کے بہت پاس سے گزرا ہوا صرف ایک لمحہ بہا لے گیا ہے جانے کتنے خوابوں خواہشوں اور منصوبوں کو بچا ہے ہڈیوں تک دھنسا ہوا سناٹا رکتی ہوئی سانسیں ڈوبتی ہوئی نبض اور سرد ہوا جسم پھر کوئی تیز ہوا کا جھونکا ڈھیر ساری گڈمڈ آوازیں چیخ ہنسی اور مسکراہٹ گھر دفتر بیوی بچے اور آئندہ بیس ...

مزید پڑھیے

ایک لمحے کا خوف

شب و روز کے مشغلوں سے پرے کوئی ایسا بھی لمحہ ہے جس کے تصور میں کتنے شب و روز بے چین گزرے دھڑکتی ہوئی نبض ڈوبی آتی جاتی ہوئی سانس راہوں میں رکنے لگی اندھیروں کے طوفان میں ایک کشتی بھی ساحل سے اوجھل ہوئی کوئی جگمگاتا ستارہ فلک کی بلندی سے گر کر کہیں کھو گیا سرد سارا بدن ہو گیا اور ...

مزید پڑھیے

ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام

ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام لے کر بلائے درد کدھر جائے گی یہ شام پھیلیں گی چار سمت سنہری اداسیاں ٹکرا کے کوہ شب سے بکھر جائے گی یہ شام رگ رگ میں پھیل جائے گا تنہائیوں کا زہر چپکے سے میرے دل میں اتر جائے گی یہ شام ٹوٹا یقین زخمی امیدیں سیاہ خواب کیا لے کے آج سوئے سحر جائے ...

مزید پڑھیے

سانسوں میں رگ و پے میں سمایا ہے کوئی اور

سانسوں میں رگ و پے میں سمایا ہے کوئی اور ہے زیست کسی اور کی جیتا ہے کوئی اور آنکھوں نے بسائی ہے کوئی اور ہی صورت اس دل کے نہاں خانے میں ٹھہرا ہے کوئی اور کیا طرفہ تماشا ہے کہ اس دل کی صدا کو سنتا ہے کوئی اور سمجھتا ہے کوئی اور اک آگ ہے جو دل میں بجھی جاتی ہے ہر پل خرمن سے جو اٹھتا ...

مزید پڑھیے

بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا

بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا رکی ہے سوچ کہ اب اور آگے سوچے کیا ہر ایک راہ ہے سنسان ہر گلی خاموش یہ شہر شہر خموشاں ہے کوئی بولے کیا بجھی بجھی سی تمنا تھکی تھکی سی امید اب اور یاس کے صحرا میں کوئی چاہے کیا ہوئی ہے صبح سے کس طرح شام شام سے صبح جو میری جان پہ گزری ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

کشتی رواں دواں تھی سمندر کھلا ہوا

کشتی رواں دواں تھی سمندر کھلا ہوا آنکھوں میں بس گیا ہے وہ منظر کھلا ہوا بستر تھا ایک جسم تھے دو خواہشیں ہزار دونوں کے درمیان تھا خنجر کھلا ہوا الجھا ہی جا رہا ہوں میں گلیوں کے جال میں کب سے ہے انتظار میں اک گھر کھلا ہوا صحرا نورد شہر کی سڑکوں پہ آ گئے چہرے پہ گرد آبلہ پا سر کھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 962 سے 6203