دن میں اشکوں کے نگیں دشت میں ہارے کتنے
دن میں اشکوں کے نگیں دشت میں ہارے کتنے رات ہم راہ لیے آ گئی تارے کتنے خواب آنکھوں کے سلا آئے گھروں کے اندر لوگ سڑکوں پہ لیے آ گئے نعرے کتنے خود کو نیلام کیا مصر کے بازاروں میں قرض یوسف نے محبت کے اتارے کتنے سب ہی مصروف عبادت ہیں گنے کون یہاں مسجدیں شہر میں کتنی ہیں منارے ...