کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن
کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن بیچ میں ایک صدی آن پڑی ہے لیکن آنکھ صحرا کی طرح خشک سہی اندر سے سات ساون سے مسلسل ہی جھڑی ہے لیکن وہ جو کہتا ہے مجھے ہجر نہیں ہے لاحق بات کچھ بھی یہ نہیں بات بڑی ہے لیکن تین دیواروں پہ گزرے ہوئے موسم کے نشاں چوتھی دیوار پہ آویزاں گھڑی ہے ...