قومی زبان

کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن

کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن بیچ میں ایک صدی آن پڑی ہے لیکن آنکھ صحرا کی طرح خشک سہی اندر سے سات ساون سے مسلسل ہی جھڑی ہے لیکن وہ جو کہتا ہے مجھے ہجر نہیں ہے لاحق بات کچھ بھی یہ نہیں بات بڑی ہے لیکن تین دیواروں پہ گزرے ہوئے موسم کے نشاں چوتھی دیوار پہ آویزاں گھڑی ہے ...

مزید پڑھیے

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا یک طرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا صدیوں ہوئی تہذیب سزا اور جزا کی اک سجدۂ سرمست نے دیں کا نہیں چھوڑا تصویر لگی رہ گئی دیوار کھنڈر پر جو رشتہ مکاں سے تھا مکیں کا نہیں چھوڑا سو روپ تھے وحدت میں بھی اس پارہ صفت کے پر ہم کو بت دل نے یقیں کا نہیں ...

مزید پڑھیے

اس کے ہونے کی خبر شہر میں دل نے پائی

اس کے ہونے کی خبر شہر میں دل نے پائی کوئی ساعت کی بھی فرصت نہیں ملنے پائی ہاتھ پہ رکھوں ترے نقش ابھر آتے ہیں کیا صفت دیکھ تو اس شہر کی گل نے پائی عشق نے مجھ کو جلا ڈالا ہے شعلہ بن کر میں ردا درد کی سوزن سے نہ سلنے پائی ہم کو تنہائی نے توڑا کیا ریزہ ریزہ زخم دل ہجر کی بارش تو نہ ...

مزید پڑھیے

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں اک دشت میں ہوں پیاس بجھانے میں لگی ہوں بتلاؤ کوئی اسم مجھے رد بلا کا میں آخری کردار نبھانے میں لگی ہوں وہ صحن میں افلاک لیے کب سے کھڑا ہے میں چھت پہ ہوں بادل کو اڑانے میں لگی ہوں اک عمر ہوئی پیڑ پہ دو نام لکھے تھے اک عمر سے وہ نام مٹانے میں ...

مزید پڑھیے

تاروں بھرا فلک ہے بچھونا تو ہے نہیں

تاروں بھرا فلک ہے بچھونا تو ہے نہیں اس چاندنی کے تخت پہ سونا تو ہے نہیں آنسو گریں جو سنگ پہ رستہ بنائیں گے پتھر کی آنکھ نے کبھی رونا تو ہے نہیں چاروں طرف میں اس کے قدم ڈھونڈھتی رہی اس گھر میں کوئی پانچواں کونا تو ہے نہیں

مزید پڑھیے

ممبئی کی ایک رات

چکا چوندھ حیرت زدہ روشنیوں کے اس شہر میں چند تاریک لمحوں کی خاطر بھٹکتا رہا ہوں کھلے بازوؤں ابھرے سینوں کھلی پنڈلیوں نیم عریاں لباسوں میں جکڑے ہوئے جسم کی خوشبوؤں سے میں گھبرا اٹھا ہوں چیختے پتھروں سنسناتی ہواؤں سمندر کی لہروں سے بھی ڈر گیا ہوں اک اونچی عمارت کے اک تنگ کمرے سے ...

مزید پڑھیے

عجیب لوگ

عجیب لوگ ہیں صحرا میں شہر میں گھر میں سلگتی ریت پہ ٹھٹھرے ہوئے سمندر میں خلا میں چاند کی بنجر زمیں کے سینے پر جو صبح و شام کی بے ربط راہ میں چپ چاپ تعلقات کی تعمیر کرتے رہتے ہیں ہوا کے دوش پہ طوفان زلزلہ سیلاب دیا سلائی کی تیلی پہ ٹینک ایٹم بم کوئی جلوس کوئی پوسٹر کوئی تقریر امڈتی ...

مزید پڑھیے

کرفیو

آج شب باہر نہ نکلو چل رہی ہیں ہر طرف خونی ہوائیں نفرتوں کے چھا گئے ہیں ابر ہر سو وحشتوں کا ہے اندھیرا کھڑکیوں کو بند کر دو ان پہ احساسات کے پردے چڑھا دو میز سے اخلاق کے کاغذ ہٹا دو پھاڑ دو انسانیت کی سب کتابیں علم کی شمعیں بجھا دو بند کر لو انگلیوں سے کان اپنے شاہراہیں چیختی ہیں ہر ...

مزید پڑھیے

کہیں کچھ نہیں ہوتا

کہیں کچھ نہیں ہوتا نہ آسمان ٹوٹتا ہے نہ زمیں بکھرتی ہے ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی ہے ماہ و سال شب و روز برف کی طرح جم گئے ہیں اب کہیں اجنبی قدموں کی چاپ سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا نہ کہیں کسی جادوئی چراغ سے کوئی پریوں کا محل تعمیر ہوتا ہے نہ کہیں بارش ہوتی ہے نہ شہر جلتا ہے کہیں ...

مزید پڑھیے

یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا

یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا مگر دیکھنا جس کو چاہا نہ دیکھا یہ تنہائ دشت غربت کی حد ہے کبھی دھوپ میں اپنا سایا نہ دیکھا بتوں کی جگہ اور عاشق کے دل میں یہی سنگ و شیشہ میں یارا نہ دیکھا اگر دید سے کام ہی کچھ نہ نکلا تو کیا فائدہ جیسے دیکھا نہ دیکھا لہو سے بھری اپنی چٹکی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 961 سے 6203