ہے مرا رنگ سخن رنگ بیاں کچھ مختلف
ہے مرا رنگ سخن رنگ بیاں کچھ مختلف یہ نشاط دلبری طرز فغاں کچھ مختلف دیکھیے کس راہ پر چلتا رہا ہے کارواں ہیں ہمارے راستوں پر یہ نشاں کچھ مختلف جو ہمارے ذکر کو ہم سے بھی پوشیدہ رکھے اب ہمیں بھی چاہئے اک راز داں کچھ مختلف ایک انجانی سی چپ ہے چار سو پھیلی ہوئی چاہئے اے مہرباں! اک ہم ...