روشن ہر ایک سمت چراغ نظر تو ہو
روشن ہر ایک سمت چراغ نظر تو ہو حکم سفر سے پہلے حساب سفر تو ہو اس شہر کا سکوت کبھی ٹوٹتا نہیں چیخوں تو میری چیخ میں کوئی اثر تو ہو میں تو سیاہ رات کے زنداں میں ہوں اسیر سایہ مرا کہاں ہے مجھے کچھ خبر تو ہو پانی کا یہ بہاؤ ندی کی شناخت ہے اب میرے برف برف بدن میں شرر تو ہو فصل بہار ...