چل سکی کچھ نہ رہ عشق میں تدبیر مری
چل سکی کچھ نہ رہ عشق میں تدبیر مری رنگ لاتی رہی ہر گام پہ تقدیر مری آئنہ کیا ہے فقط حامل عکس جلوہ ورنہ ہر ذرۂ عالم پہ ہے تصویر مری راز سے اپنے میں آگاہ نہیں ہوں پھر بھی جانتا ہوں کہ یہ کونین ہے تفسیر مری آتش عشق کا اک شعلۂ بے باک ہوں میں آب و گل سے نظر آتی نہیں تعمیر مری آفریں ...