جان کی باری ہے اب دل کا زیاں ایسا نہ تھا
جان کی باری ہے اب دل کا زیاں ایسا نہ تھا خیر جو کچھ بھی ہوا ہم کو گماں ایسا نہ تھا سخت جیسی اب ہے قدموں میں زمیں ایسی نہ تھی سر پہ جیسا اب ہے بھاری آسماں ایسا نہ تھا اک زمانہ ہو گیا اس راہ سے گزرے ہوئے یہ گلی ایسی نہیں تھی یہ مکاں ایسا نہ تھا تھا خس و خاشاک کی مانند اپنا ہی ...