قومی زبان

جان کی باری ہے اب دل کا زیاں ایسا نہ تھا

جان کی باری ہے اب دل کا زیاں ایسا نہ تھا خیر جو کچھ بھی ہوا ہم کو گماں ایسا نہ تھا سخت جیسی اب ہے قدموں میں زمیں ایسی نہ تھی سر پہ جیسا اب ہے بھاری آسماں ایسا نہ تھا اک زمانہ ہو گیا اس راہ سے گزرے ہوئے یہ گلی ایسی نہیں تھی یہ مکاں ایسا نہ تھا تھا خس و خاشاک کی مانند اپنا ہی ...

مزید پڑھیے

کوئی دیکھے ادھوراپن ہمارا

کوئی دیکھے ادھوراپن ہمارا کہ گھر بھی ہے تو بے آنگن ہمارا انہیں ہرگز نہ روکو کھولنے دو انہی بچوں میں ہے بچپن ہمارا ابھی کچھ اور سانسوں کی ہوا دو سلگتا رہ گیا ہے تن ہمارا تمہیں بھی لے چلے پردیس ساجن ذرا لگنے لگا تھا من ہمارا تم آ جاؤ ہرے ہو جائیں گے ہم ہرا پن لے گیا ساون ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں قصر عالی شان میں خوش

وہ کہاں قصر عالی شان میں خوش ہم غریبوں کے ہیں گمنام میں خوش دور سے دیکھنے سے لگتے ہیں سب ستارے ہیں آسمان میں خوش دھوپ اسی راستے میں آتی ہے ایک دروازہ ہے مکان میں خوش راہ گیروں کو روک لیتی ہے چارپائی ہے سائبان میں خوش ٹکڑے ٹکڑوں میں بٹ گئی دنیا کچھ پرانے ہیں خاندان میں ...

مزید پڑھیے

کب مرحلۂ غم سے گزرنا نہیں ہوتا

کب مرحلۂ غم سے گزرنا نہیں ہوتا پل بھر کو سواری سے اترنا نہیں ہوتا اڑنے دو مری خاک سمیٹو گے کہاں تک یکجا ہی نہ ہوتا جو بکھرنا نہیں ہوتا چھت سے کبھی اترا تو نظر آیا فلک پر زینے سے کبھی اس کا اترنا نہیں ہوتا دنیا کا کوئی کام ہو آسان سے آسان ہونا ہو تو ہوتا ہے وگرنہ نہیں ہوتا لاتا ...

مزید پڑھیے

رقص ہستی کے پھسل جانے کا اندیشہ ہے

رقص ہستی کے پھسل جانے کا اندیشہ ہے باغ ہاتھوں سے نکل جانے کا اندیشہ ہے اب تو وہ سر بھی لگتا ہے ہمارا مطرب راگ جس سر پہ بدل جانے کا اندیشہ ہے رات کو خوف مرا چاند کوئی چھین نہ لے چاند کو رات کے ڈھل جانے کا اندیشہ ہے بوند بھر تیل بچا ہے تو دیا گل کر دو ورنہ بستی کے بھی جل جانے کا ...

مزید پڑھیے

روح سے کب یہ جسم جدا ہے

روح سے کب یہ جسم جدا ہے ان باتوں میں کیا رکھا ہے رفتہ رفتہ وہ بھی مجھ کو بھول رہا ہے بھول چکا ہے رت پیراہن بدل رہی ہے پتا پتا ٹوٹ رہا ہے ان آنکھوں کا ہر افسانہ میرے ہی خوابوں کی صدا ہے ہر چہرہ جانا پہچانا شہر ہی اپنا چھوٹا سا ہے

مزید پڑھیے

ہم کب اس راہ سے گزرتے ہیں

ہم کب اس راہ سے گزرتے ہیں اپنی آوارگی سے ڈرتے ہیں کشتیاں ڈوب بھی تو سکتی ہیں ڈوب کر بھی تو پار اترتے ہیں توڑ کر رشتۂ خلوص احباب آنسوؤں کی طرح بکھرتے ہیں اپنے احساس کی کسوٹی پر ہم بھی پورے کہاں اترتے ہیں چاہے کیسا ہی دور آ جائے اپنے حالات کب سنورتے ہیں سطح پر ہیں حباب کے ...

مزید پڑھیے

میں ہی کشتی بھی ہوں ملاح بھی طوفان بھی ہوں

میں ہی کشتی بھی ہوں ملاح بھی طوفان بھی ہوں اور اب ڈوب رہا ہوں تو پریشان بھی ہوں میں جو اوروں کو دکھاتا ہوں اس آئینے میں اپنا چہرہ نظر آیا ہے تو حیران بھی ہوں حال یہ کیسا فقیروں سا بنا رکھا ہے کون کہہ دے گا کسی وقت کا سلطان بھی ہوں باریابی کی تمنا میں پڑا ہوں در پر بیٹھا ہوتا تو ...

مزید پڑھیے

منوں ریت تلے

میں جو سوئی ہوں منوں ریت تلے کاش تو جان سکے شام ڈھلے میری آنکھیں تری آہٹ پہ لگی رہتی ہیں میرا آنچل میری ترسی ہوئی بے کل ہستی میری ممتا تری راہوں میں بچھی رہتی ہے میں بہت خوش ہوں تجھے دیکھ کے اے دل کے قرار تیرے چہرے کی چمک آج بھی تابندہ ہے تیرے لہجے میں مرا عکس ابھی زندہ ہے میں جو ...

مزید پڑھیے

نظم

وہ سمندر کے پار رہتا ہے اور دل بے قرار رہتا ہے اس کی باتیں جو یاد آتی ہیں دن ڈھلے تک ہمیں ستاتی ہیں رات بھر اک خمار رہتا ہے وہ سمندر کے پار رہتا پے شہر ماتم کناں ہے تیرے بغیر دشت بھی بے اماں ہے تیرے بغیر ہر شجر سوگوار رہتا ہے وہ سمندر کے پار رہتا ہے دوستی بن گئی سزا جیسے اور ہو آپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 882 سے 6203