قومی زبان

خوابوں کی رہ گزر سے خیالوں کی راہ سے

خوابوں کی رہ گزر سے خیالوں کی راہ سے تجھ تک پہنچ رہا ہوں اجالوں کی راہ سے میں جانتا ہوں راستہ غزلوں کے شہر کا آیا ہوں چل کے زہرہ جمالوں کی راہ سے میں رفتہ رفتہ کرب کی منزل تک آ گیا دل کا قرار ڈھونڈنے والوں کی راہ سے بے شکل کیفیت کے ہیں چہرے جدا جدا کچھ بات بن رہی ہے مثالوں کی راہ ...

مزید پڑھیے

نہ صرف یہ کہ زمانے کا ڈھب دکھائی دے

نہ صرف یہ کہ زمانے کا ڈھب دکھائی دے غزل تو وہ ہے کہ اندر کا سب دکھائی دے بدن کی اس کے کساوٹ ہی کیا قیامت ہے کسی لباس میں دیکھو غضب دکھائی دے میں اپنی عید منا لوں مجھے کسی سے کیا نہ جانے پھر وہ مرا چاند کب دکھائی دے میں اس کو دیکھوں کچھ ایسا کہ دیکھ بھی نہ سکوں وہ اپنے آپ میں چھپ ...

مزید پڑھیے

آوازوں کے جال بچھائے جاتے ہیں

آوازوں کے جال بچھائے جاتے ہیں کھونے والے اب کیا پائے جاتے ہیں اچھے اچھے لوگوں کی کیا پوچھتے ہو یاد کئے جاتے ہیں بھلائے جاتے ہیں ہنس ہنس کر جو پھول کھلائے تھے تم نے اس موسم میں سب مرجھائے جاتے ہیں سورج جیسے جیسے ڈھلتا جاتا ہے اس کی دیواروں تک سائے جاتے ہیں رشتوں پر اک ایسا وقت ...

مزید پڑھیے

غلط ہے سب تو یہ رسوائی کیسی

غلط ہے سب تو یہ رسوائی کیسی جو پربت بن گئی وہ رائی کیسی کبھی خالی سمندر کر کے دیکھیں نظر آتی ہے کہ گہرائی کیسی لگا ہے چاند کو یہ داغ کیسا چھپی ہے داغ میں یہ کھائی کیسی مری یہ بات سن لیں دوربینیں نہیں ہوں آنکھ تو بینائی کیسی اسی کی ذات کے ہیں سب کرشمے بزرگوں پھر یہ ہاتھا پائی ...

مزید پڑھیے

اک آس کا دیا تو دل میں جلاتے جاؤ

اک آس کا دیا تو دل میں جلاتے جاؤ کس موڑ پر ملوگے یہ تو بتاتے جاؤ اس در سے جا ملیں گے یہ جتنے راستے ہیں کانٹے ہٹاتے جاؤ کلیاں بچھاتے جاؤ پتھر میں بھی چھپا ہے نغمات کا خزانہ یہ شرط ہے کہ اس تک تم گنگناتے جاؤ جب میکدے سے لوٹو پھر کیا کسی سے چھپنا جب میکدے کو جاؤ چھپتے چھپاتے جاؤ اے ...

مزید پڑھیے

جہاں گھر ہوگا در ہوگا ہمارا

جہاں گھر ہوگا در ہوگا ہمارا وہاں سے کب گزر ہوگا ہمارا اگر ہم ہیں ستاروں کے اثر میں ستاروں پر اثر ہوگا ہمارا تمہیں نیند آ رہی ہے شام ہی سے تماشا رات بھر ہوگا ہمارا نکالے جائیں گے پہلو ہزاروں فسانہ مختصر ہوگا ہمارا نہ کاٹیں رات کیوں کر اس گلی میں وہاں خواب سحر ہوگا ہمارا یہ جو ...

مزید پڑھیے

ہم ٹھہرنے کے نہیں عمر رواں رکھتے ہیں

ہم ٹھہرنے کے نہیں عمر رواں رکھتے ہیں وہ زمیں گھومتی ہے پاؤں جہاں رکھتے ہیں دیکھتے سب ہیں مگر بند زباں رکھتے ہیں اس طرح شہر میں ہم امن و اماں رکھتے ہیں دل لرزتا ہے تو ڈرتے ہیں کہیں ٹوٹ نہ جائے شاخ پر ایک ہی تو برگ خزاں رکھتے ہیں ڈھونڈ لیتا ہے ہر ایک شخص ہمیں ہم شاید اپنے ہونے کا ...

مزید پڑھیے

چاک کر کر کے گریباں روز سینا چاہیئے

چاک کر کر کے گریباں روز سینا چاہیئے زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہیئے خودکشی کے ٹل گئے لمحے تو سوچا مدتوں یہ خیال آیا ہی کیوں تھا زہر پینا چاہیئے مشورہ موجوں سے لوں اس پار جانا ہے مجھے ناخداؤں کا تو کہنا ہے سفینہ چاہیئے باسلیقہ لوگ بھی ہیں بے سلیقہ لوگ بھی کس سے کب ملیے کہاں ...

مزید پڑھیے

ہم پر جتنے وار ہوئے بھرپور ہوئے

ہم پر جتنے وار ہوئے بھرپور ہوئے ہم سے پوچھو کیسے چکناچور ہوئے سنجیدہ لوگوں کا جینا مشکل ہے کھیل تماشے دنیا کا دستور ہوئے میری نظر میں جیسے پہلے تھے اب ہو کون سی دولت پا کر تم مغرور ہوئے یہ تو گلستانوں میں روز کے قصے ہیں پھول کھلے کھل کر شاخوں سے دور ہوئے ہم نے شکیلؔ اک چھوٹی ...

مزید پڑھیے

آج اس بزم میں یوں داد وفا دی جائے

آج اس بزم میں یوں داد وفا دی جائے اے غم عشق تری عمر بڑھا دی جائے موسم خندۂ گل ہے تو زباں بند رکھیں بات اپنی بھی ہنسی میں نہ اڑا دی جائے عشوۂ ناز و ادا جور و جفا مکر و دغا کیسے جی لیں جو ہر اک بات بھلا دی جائے اس کے غم ہی سے ہے ہر درد کا رشتہ اب تک دل پہ جب چوٹ لگے اس کو دعا دی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 881 سے 6203