خوابوں کی رہ گزر سے خیالوں کی راہ سے
خوابوں کی رہ گزر سے خیالوں کی راہ سے تجھ تک پہنچ رہا ہوں اجالوں کی راہ سے میں جانتا ہوں راستہ غزلوں کے شہر کا آیا ہوں چل کے زہرہ جمالوں کی راہ سے میں رفتہ رفتہ کرب کی منزل تک آ گیا دل کا قرار ڈھونڈنے والوں کی راہ سے بے شکل کیفیت کے ہیں چہرے جدا جدا کچھ بات بن رہی ہے مثالوں کی راہ ...