قومی زبان

بجھے بجھے ہوئے داغ جگر کی بات نہ کر

بجھے بجھے ہوئے داغ جگر کی بات نہ کر بھڑک اٹھے گا یہ شعلہ سحر کی بات نہ کر بس ایک بار محبت سے دیکھنے والے یہ وہ کرم ہے کہ بار دگر کی بات نہ کر ترس نہ جائیں کہیں رنگ و بو کو اہل چمن گلوں کو دیکھ کے زخم جگر کی بات نہ کر متاع درد بڑھا اور مسکرائے جا شب فراق نمود سحر کی بات نہ کر نیا ...

مزید پڑھیے

اک شخص بھری بزم میں تنہا نظر آیا

اک شخص بھری بزم میں تنہا نظر آیا اپنا تو نہیں تھا مگر اپنا نظر آیا ہم تشنہ لبوں نے کبھی جا کر لب دریا دریا کو بھی دیکھا ہے تو پیاسا نظر آیا شبنم‌ زدہ پھولوں کے سوا صحن چمن میں اے آبلہ پایان جنوں کیا نظر آیا اے گھومتی‌‌ پھرتی ہوئی لاشو یہ بتاؤ انساں کوئی اس شہر میں زندہ نظر ...

مزید پڑھیے

نئی حیات نیا ساز دے رہا ہوں میں

نئی حیات نیا ساز دے رہا ہوں میں دل شکستہ کو آواز دے رہا ہوں میں ہے فخر یہ کہ مری زندگی ہے عجز و نیاز غرور یہ کہ تمہیں ناز دے رہا ہوں میں تری حسین جفاؤں سے لے کے درس وفا جنوں کو کچھ نئے انداز دے رہا ہوں میں یہ کس مقام پہ لے آئی بے خودی کہ تمہیں خود اپنے نام سے آواز دے رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کیا ہم نے انتظار سحر

تمام عمر کیا ہم نے انتظار سحر سحر ہوئی بھی تو آیا نہ اعتبار سحر بھٹک رہا ہے کہاں کاروان دیدہ و دل نہ یہ دیار شب غم نہ یہ دیار سحر سنبھل سنبھل کے چلے کاروان لالہ و گل یہ رہ گزار سحر ہے یہ رہ گزار سحر کسی کے حسن تبسم کی اک کرن چھو کر گلوں کو بخش دیا ہم نے اختیار سحر ترا خیال نہ آئے ...

مزید پڑھیے

ہم چل دیے تو راستے ہموار ہو گئے

ہم چل دیے تو راستے ہموار ہو گئے اور رک گئے تو سایۂ دیوار ہو گئے اب کیا پئیں شراب کہ ساقی بقدر ظرف تجھ سے نظر ملا کے گنہ گار ہو گئے دور خزاں میں جن کو تھا دیوانگی کا شوق فصل بہار آتے ہی ہوشیار ہو گئے اہل زمیں کو دیکھ کے کچھ ساکنان عرش حیراں ہوئے تو نقش بہ دیوار ہو گئے تا عمر ...

مزید پڑھیے

زندگی ایسی سزا ہے کہ سزا بھی تو نہیں

زندگی ایسی سزا ہے کہ سزا بھی تو نہیں دل دھڑکتا ہے دھڑکنے کی صدا بھی تو نہیں کیا خد و خال تھے کچھ یاد رہا بھی تو نہیں ایسا بچھڑا کوئی مدت سے ملا بھی تو نہیں آہٹیں کیا ترے قدموں کی سنائی دیں گی اب کہ پہلو میں دل نغمہ سرا بھی تو نہیں رہنوردان رہ عشق بھٹک ہی نہ سکیں اتنے تابندہ نقوش ...

مزید پڑھیے

نقوش عہد گذشتہ ابھارنے کے لئے

نقوش عہد گذشتہ ابھارنے کے لئے میں کھیلتا ہوں ہر اک کھیل ہارنے کے لئے ترا حسین تصور ہی کم نہیں اے دوست غم حیات کے گیسو سنوارنے کے لئے سمیٹ لے غم کونین اپنے دامن میں جنون عشق نیا روپ دھارنے کے لئے تمام عمر مری زندگی رہی بیتاب سکون کا کوئی لمحہ گزارنے کے لئے جگر کے زخموں پہ کیا ...

مزید پڑھیے

کیا یہ فریب گردش شمس و قمر نہیں

کیا یہ فریب گردش شمس و قمر نہیں اب شب بھی شب نہیں ہے سحر بھی سحر نہیں آئینہ کہہ رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں حیرت کی بات یہ کہ کوئی ہم سفر نہیں کہتے ہیں دیدہ ور کہ بیاباں کہو اسے وہ گلستاں کہ جس میں کوئی دیدہ ور نہیں صورت جو دیکھیے تو ہر اک میر کارواں منزل سے پوچھئے تو کوئی راہبر ...

مزید پڑھیے

دست وحشت میں گریبان سا ہوں

دست وحشت میں گریبان سا ہوں کچھ دنوں سے میں پریشان سا ہوں کہہ رہا ہے یہ ترا حسن و جمال غالبؔ و میرؔ کا دیوان سا ہوں اور کچھ دیر مرے ساتھ رہو اور کچھ دیر کا مہمان سا ہوں روح کہتی ہے کہ الزام نہ دے جسم کہتا ہے کہ بے جان سا ہوں صورتیں دیکھ رہا ہوں نشترؔ مثل آئینہ ہوں حیران سا ہوں

مزید پڑھیے

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں

چاہا بیاں کروں جوں ہے میرے خیال میں معنی الجھ کے رہ گئے لفظوں کے جال میں جیتا ہے کون بحث میں مورکھ سے آج تک بے کار کیوں الجھتے ہو تم قیل و قال میں لے جانے والے لوٹ کے سب کچھ چلے گئے ہم سوچتے ہی رہ گئے کالا ہے دال میں ممکن ہے ان کے در سے ٹکا سا ملے جواب لیکن نہ ہچکچائیے اپنے سوال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 857 سے 6203