قومی زبان

پہونچا میں کوئے یار میں جب سر لیے ہوئے

پہونچا میں کوئے یار میں جب سر لیے ہوئے نازک بدن نکل پڑے پتھر لیے ہوئے اے دوست زندگی کی مجھے بد دعا نہ دے میں خاک ہو چکا ہوں مقدر لیے ہوئے چلتی ہے روندتی ہوئے پل پل مرا وجود ہر سانس خواہشات کا لشکر لیے ہوئے پرچھائیوں کے دیس میں بے اصل کچھ نہیں منظر بھی ہے یہاں پس منظر لیے ...

مزید پڑھیے

ذکر جس کا سحر و شام سے وابستہ ہے

ذکر جس کا سحر و شام سے وابستہ ہے روشنی ذہن کی اس نام سے وابستہ ہے جیسے ذرہ کبھی سورج کے مقابل آ جائے یوں مرا نام ترے نام سے وابستہ ہے دن کے صحرا میں بہت دیر سے شام آتی ہے اس سے ملنے کی دعا شام سے وابستہ ہے درد مندی بھی محبت بھی رواداری بھی کام کتنا دل ناکام سے وابستہ ہے زندگی زد ...

مزید پڑھیے

سنائے اس نے جب اشعار میرے

سنائے اس نے جب اشعار میرے کئی مصرعے ہوئے گل بار میرے سفر دریا کی رو پر منحصر ہے نہیں ہیں ہاتھ میں پتوار میرے کہانی میں نمایاں ہو گئے ہیں وہی ہیں ثانوی کردار میرے وہ ان راہوں سے ہجرت کر گئے ہیں شجر جتنے تھے سایہ دار میرے ہوا منظوم ہو کر آ رہی ہے ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار ...

مزید پڑھیے

ایسے رہتے ہیں اپنے گھر میں اسیر

ایسے رہتے ہیں اپنے گھر میں اسیر روشنی جیسے بام و در میں اسیر یوں ہیں فکر و خیال ہم آہنگ لفظ معنی کے ہے اثر میں اسیر نام کیا پوچھتے کہ حیراں تھے ہم ہوئے کیسے اس سحر میں اسیر بس شباہت تلاش کرنا ہے وہ ہے خود اپنے ہی ہنر میں اسیر ہم ہوئے متن میں نظر انداز صاحب دہر ہے دہر میں ...

مزید پڑھیے

گومتی

میرے بچپن کی مری پیاری سہیلی گومتی تجھ پہ کیا گزری ہے کہ تو یوں سمٹ کر رہ گئی وہ تری مدھم سروں میں خوش بیانی کیا ہوئی وہ تری بے ساختہ طرز روانی کیا ہوئی شوخئ رفتار پر تیری فدا تھا لکھنؤ ہر قدم پر کہہ رہا نام خدا تھا لکھنؤ کب بھلا اپنی حدوں میں اس طرح بہتی تھی تو بے خودی میں سب کنارے ...

مزید پڑھیے

محبوب سا انداز بیاں بے ادبی ہے

محبوب سا انداز بیاں بے ادبی ہے منصور اسی جرم میں گردن زدنی ہے خود اپنے ہی چہرے کا تعین نہیں ہوتا حالانکہ مرا کام ہی آئینہ گری ہے آنے دو ابھی جبہ و دستار پہ پتھر کچھ کعبہ نشینوں میں ابھی بولہبی ہے خالی ہی رہا دیدۂ پر شوق کا دامن اندھوں کی عقیدت میں وسیع النظری ہے ہر پاؤں سے ...

مزید پڑھیے

لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر

لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر روح بیتاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر کس نئے لہجے میں اب روح کا اظہار کروں سانس بھی چلتی ہے ...

مزید پڑھیے

زیر زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو

زیر زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو حرف خراب و خستہ کو ضد ہے کہ داستاں کہو آب سیاہ پھیر دو باب وفا کے نقش پر شہر انا میں جب کبھی قصۂ دیگراں کہو کون شریک درد تھا آتش سرد کے سوا راکھ حقیر تھی مگر راکھ کو مہرباں کہو دور خلا کے دشت میں مثل شرار ثبت ہیں کس نے انہیں خفا کیا کیوں ہوئے بد ...

مزید پڑھیے

وہ جو تم نے نام خدا لیا سبھی رنجشوں کو بھلا دیا (ردیف .. ن)

وہ جو تم نے نام خدا لیا سبھی رنجشوں کو بھلا دیا مجھے اب یقین یہ آ گیا کہ زمانہ اتنا برا نہیں اسے کب ہمارا خیال ہے مرے دل کو کیوں یہ ملال ہے کبھی اس نے ایسا کہا نہیں کبھی ہم نے ایسا سنا نہیں نہ رقیب ہے نہ حبیب ہے مرا اس سے رشتہ عجیب ہے وہ ملے تو دل کو سکوں ملے نہ ملے تو کوئی گلہ ...

مزید پڑھیے

ابھی اس تک کہاں پہنچا سمندر

ابھی اس تک کہاں پہنچا سمندر وہ اپنی ذات میں ایسا سمندر زمیں اوڑھے ہے میری سبز چادر مرے آنچل میں ہے نیلا سمندر مجھے بادل کی محمل میں بٹھا کے تمہارے شہر تک لایا سمندر مرا پیرایۂ اظہار دیکھیں میں ہوں مٹی ہوا شعلہ سمندر مجھے محدود ذہنوں سے شکایت بہت اچھا لگا پھیلا سمندر محبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 843 سے 6203